پی پی پی استعفوں کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی: شیری رحمٰن

پی پی پی استعفوں کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی: شیری رحمٰن

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ پی پی پی استعفوں کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، اس حوالے سے ماضی کا تلخ تجربہ رکھتے ہیں تاہم اگر اس ایٹم بم کے استعمال پر بات ہوسکتی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی پاکستان میں کورونا وائرس کی شرح بہت بڑھ گئی ہے اور ہر 10 میں سے ایک ٹیسٹ مثبت آرہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت ہم سب کو ایس او پیز کا درس دیتی ہے تاہم اس کے باوجود وزیر اعظم نے ایک اجلاس طلب کیا جس سے قوم کو ایک منفی پیغام گیا’۔

انہوں نے کہا کہ یہ چین کی مہربانی ہے کہ ہم نے 60 سال سے اوپر لوگوں کو ویکسین کا عمل مکمل کرلیا۔

 انہوں نے بتایا کہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک بشمول چھوٹے چھوٹے ممالک اپنی آبادی کو مفت ویکسین فراہم کر رہے ہیں تاہم ‘ہم اب تک کچھ بھی نہیں منگوا سکے ہیں’۔

شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ ‘اس حکومت نے اداروں کو گروی رکھ کر پاکستان کی عوام کا مستقبل گروی رکھ دیا ہے، 44 کھرب ملک کا قرضہ ہوچکا ہے جو جی ڈی پی کا 98 فیصد بنتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آئی ایم ایف کو کہا جارہا ہے کہ آپ جو کہیں ہمیں قبول ہے، اسٹیٹ بینک کو جو مادر پدر خود مختاری دینے کی بات ہورہی ہے میری اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف کبھی یہ مطالبہ نہیں کرتی، اس کا ایک معیار ہے جس میں شفافیت ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی بات پر پارلیمان میں کوئی بحث تک نہیں ہوئی۔

یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر منتخب ہونے پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی پیپلز پارٹی پر تنقید کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘بلاول بھٹو نے سیاسی تہذیب کے دائرے میں رہ کر تنقید کا جواب دیا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پی ڈی ایم پارلیمان میں رہ کر سلیکٹڈ حکومت کا احتساب کرنے کے لیے بنی تھی، ہم پر امن سڑکوں پر احتجاج کے لیے تیار تھے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘جب یہ عہدہ چھوٹا لگ رہا تھا تو ہم سے مشاورت کیوں نہیں کی گئی، ہم نے ان سے کہا کہ آپ کے پاس دو بڑے عہدے ہیں پارلیمان میں تاہم یہ سینیٹ کا لیڈر آف اپوزیشن سنگل بڑی جماعت کا حق ہوتا ہے’۔

شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ ‘ہم سمجھتے تھے کہ وہ ہمارے موقف کی تائید کی جائے گی، خیبر سے کراچی تک مسلم لیگ (ن) نے کئی ضمنی انتخاب جیتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم استعفوں کی سیاست میں یقین نہیں رکھتے، ہمارا ماضی کا تلخ تجربہ ہے تاہم اگر اس ایٹم بم کو استعمال کرنے پر بات ہوسکتی ہے، ہر چیز پر اجلاس میں بحث ہوسکتی ہے، تاہم کسی کو دیوار سے لگانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘یوسف رضا گیلانی سب کے مشترکہ امیدوار تھے سلیکٹڈ کی بحث میں جانے سے پی ٹی آئی کو تقویت ملے گی’۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘عثمان بزدار کی پنجاب حکومت جڑوں سے ہلی ہوئی ہے، ہمارے ساتھ مل کر اسے ہلانے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی ہے، اس پر بحث ہی نہیں ہوتی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘چاہتی نہیں کہ ذاتیات پر ایسا لب و لہجہ استعمال کریں جس سے اس حکومت کو تقویت ملے، سیاسی بات کریں جمہوریت کی جدو جہد کا خیال رکھیں’۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے پی پی پی رہنما شازیہ مری کا کہنا تھا کہ ‘گزشتہ روز جو مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کا لہحہ قابل افسوس تھا، بلاول بھٹو زرداری نے اپنے لہجے کو سیاسی رکھا’۔

انہوں نے کہا کہ افسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپوزیشن کی حلیف جماعت کے لیے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) میں ایسے لوگ بھی ہیں جو موقع کو سمجھتے ہیں، توقع ہے کہ پارلیمان کے اندر اور باہر جمہوری روایات کو جاری رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تاہم ہمارا صبر کا پیمانہ عوام کے صبر کے پیمانے سے زیادہ ہے جو مہنگائی کو بھگت رہے ہیں، چاہتے ہیں کہ ملک میں سنجیدہ سیاست ہو’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں