پنجاب میں ماسک نہ پہننے پر 6 ماہ کی سزا ہوسکتی ہے: فردوس عاشق اعوان

پنجاب میں ماسک نہ پہننے پر 6 ماہ کی سزا ہوسکتی ہے: فردوس عاشق اعوان

وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پنجاب میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں غیرمعمولی اضافہ ہورہا ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبے بھر میں ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے۔

سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی قیادت میں فیصلہ کیا گیا کہ ماسک نہ پہننے والے کو جرمانے اور 6 ماہ قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ رمضان المبارک میں کاروباری سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں جسے ایس او پیز کے مطابق جاری رکھنا آسان کام نہیں ہوگا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اس ضمن میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت ترجیحات طے کرے گی اور اس حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے متعلق معلومات کا میڈیا سے تبادلہ کریں گے۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں رمضان المبارک میں شادی کی تقریبات پر پابندی سے متعلق حتمی فیصلہ کل کیا جائے گا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ماہ رمضان میں بین الصوبائی آمد و رفت میں اضافہ ہوجاتا ہے اس لیے ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے عہدیدار وبا کو مد نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی وضع کریں۔

عثمان بزدار کی معاون خصوصی نے کہا کہ عثمان بزدار نے مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافے پر نوٹس لے لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ جانتے ہیں کہ کون سا خاندان اور جماعت ہے جو سب سے زیادہ کنٹرول شیڈز رکھتے ہیں، اس لیے وہ مصنوعی بحران پیدا کرکے قیمتوں میں اضافہ کررہے ہیں۔

انہوں نے نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ وہ طلب و رسد میں توازن خراب کررہے ہیں جس کا مقصد صرف پولیٹیکل انجنیئرنگ ہے، ان کا دعویٰ تھا کہ رمضان سے قبل مصنوعی بحران پیدا کیا جارہا ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہم 313 سہولت بازار قائم کرنے جارہے ہیں اور بازار کی نگرانی کے لیے سہولت بازار کمیٹی بننے جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم دو لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے جارہے ہیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ سندھ میں گندم کا نرخ 2 ہزار روپے مقرر کرنے سے اسمگلنگ کا رجحان بڑھا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران کیسز بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے اور ملک میں لگاتار تیسرے دن بھی 4 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

کووڈ 19 کے اعدادوشمار کے لیے بنائی گئی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران ملک میں 4 ہزار 767 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ مزید 57 افراد ہلاک ہو گئے۔

اگر پنجاب کی بات کریں تو وائرس کی تیسری لہر سے صوبہ پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2 ہزار 823 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی اور 39 اموات ہوئیں۔

اب تک صوبے میں وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 12 ہزار 918 ہو چکی ہے جبکہ 6 ہزار 229 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں