پاکستان مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی سے متعلق کیا حکمت عملی اپنائی؟ سب سامنے آگیا

پاکستان مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی سے متعلق کیا حکمت عملی اپنائی؟ سب سامنے آگیا

پاکستان مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے نکالنے کی حکمت عملی بنا لی۔

مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کے ساتھ مزید چلنے کے لیے تیار نہیں، اس لیے اس نے پی پی کو اپوزیشن اتحاد سے نکال باہر کرنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔

ن لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ پی پی کے ساتھ مزید نہیں چلنا چاہتے، اس سلسلے میں ن لیگ نے فضل الرحمان کو بھی آگاہ کر دیا ہے، ن لیگی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ پی ڈی ایم کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا، اور تحریک صفر پر آ گئی ہے۔

ن لیگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کے مؤقف سے پیچھے ہٹ چکی ہے، اب پی پی کے بغیر ہی تحریک چلانی ہوگی، اس لیے پی ڈی ایم کی از سرنو تشکیل کی جائے۔

ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ کو آئندہ اجلاس تک انتظار کا مشورہ دے دیا ہے، اور کہا ہے کہ بیان بازی دوریاں بڑھا رہی ہے، اس لیے احتیاط کی جائے۔

خیال رہے کہ آج مریم نواز نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ زرداری سلیکٹرز سے مل کر پنجاب میں تبدیلی لانا چاہتے تھے، زرداری نے پیش کش کی کہ سلیکٹرز پنجاب میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں، ن لیگ چاہے تو بزدار کو ہٹا کر پرویز الہٰی لا سکتے ہیں، لیکن نواز شریف نے صاف انکار کر دیا کہ سلیکٹرز کے ساتھ مل کر ایسا نہیں کریں گے۔

دوسری طرف بلاول نے ن لیگی رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ ٹھنڈا پانی پئیں اور لمبی لمبی سانس لیں، پی ڈی ایم کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، نہ کسی کے ڈکٹیشن پر اتحاد چل سکتا ہے، نہ جانے کون مسلم لیگ کو پیپلز پارٹی سے جھگڑے کے غلط مشورے دے رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں