سپریم کورٹ کا حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں 10 اپریل کو پولنگ نہ کروانے کا حکم

سپریم کورٹ کا حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں 10 اپریل کو پولنگ نہ کروانے کا حکم

سپریم کورٹ پاکستان نے سیالکوٹ کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں 10 اپریل کو پولنگ نہ کروانے کا حکم دے دیا ہے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست سماعت کی۔ ن لیگی امیدوار نوشین افتخار کے وکیل سلمان اکرم راجا نے ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دیئے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کے ری پولنگ کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا موجودہ کیس کے فیصلے میں وقت درکار ہے۔ سلمان اکرم راجا کے دلائل ابھی جاری ہیں، ن لیگی امیدوار نوشین افتخار کے علاوہ باقی فریقین کو بھی سننا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پولنگ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کا برقرار ہے، فی الحال 10 اپریل کا فیصلہ ملتوی کر رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے 10 اپریل کو دوبارہ انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ فیصلے مطابق آرٹیکل 218 اور الیکشن ایکٹ کی شق 9 کے تحت انتخاب کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ 19فروری کو ہونے والا الیکشن صاف، شفاف اور آزادانہ نہیں تھا۔

انتخاب پرامن نہیں ہوسکا اور انتخابی قوانین کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔ انتخابات کے دوران خلاف ورزیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا تھا۔

پی ٹی آئی امیدوار نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں