سپریم کورٹ، این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن کیس کی سماعت کل تک ملتوی

سپریم کورٹ، این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن کیس کی سماعت کل تک ملتوی

سپریم کورٹ نے این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن کیس کی سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے لیگی وکیل سلمان اکرم کو تیاری کے ساتھ آنے کی ہدایت کردی۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال نے این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کے خلاف دائر کردہ درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ مہربای کرنے ہمیں حقائق بتائیں۔

لیگی وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کورٹ روم میں نہ ہونے سے اپنی بات نہیں پہنچا پارہا،جسٹس عمر عطا نے کہا کہ آپ آگے بڑھیں سوالات سمجھیں جس پر مسلم لیگ کے وکیل سلمان اکرم نے جواب دیا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ راجہ صاحب آپ کو کرونا انفیکشن بھی ہے، اگر تیار نہیں ہے تو وقت لے لیں۔

سپریم کورٹ کے جج نے پوچھا کہ کیا کرونا وائرس کی وجہ سے درد محسوس کررہے ہیں۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نئے کہا کہ حکومت پنجاب مقدمے میں فریق نہیں، حکومت پنجاب پر سنگین الزامات لگائے۔

ایڈیشنل اے جی نے کہا کہ کیا معاملے میں معاونت کی اجازت ہے؟ جس پر جسٹس عطا بندیال نے کہا کہ جو کہنا ہے تحریری طور پر لکھ کر دیں۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کی نشست این اے 75 ڈسکہ پر ہونے والے انتخابات کو الیکشن کمیشن کی جانب سے گزشتہ ماہ کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ الیکشن کرانے کا کہا تھا، جس پر پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کررکھی ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کےلیے مختص بجٹ کی تفصیلات جمع کرادی۔

الیکشن کمیشن نے 23 اور 25 فروری کی عوامی سماعت کا ریکارڈ بھی جمع کرا دیا ہے، الیکشن کمیشن کی جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کےلیے ایک کروڑ 91 لاکھ 78 ہزار کا بجٹ مختص کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں