انسداد دہشت گردی عدالت نے ہائیکورٹ حملہ کیس میں مزید 5 وکلا کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردی

انسداد دہشت گردی عدالت نے ہائیکورٹ حملہ کیس میں مزید 5 وکلا کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردی

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ہائیکورٹ حملہ کیس میں مزید 5 وکلا کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردی ہیں۔ ضمانتیں مسترد ہونے پر وکلا کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔اے ٹی سی جج راجہ جواد عباس نے وکلا کی ضمانت کی درخواستوں پر پر محفوظ فیصلہ سنادیا۔

ضمانتیں مسترد ہونے کے بعد ایڈووکیٹ بلال مغل، راؤ صابر حسین اور چودھری منصور حسین کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔ وکلا سید عبید اللہ شاہ اور خالد محمود خان نے اپنی درخواستیں واپس لے لیں۔

عدالت نے فضل الہٰی، یونس کیانی، اختر حسین، ایوب ارباب اور قاسم اقبال کی ضمانتیں بھی مسترد کردیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حفیظ اللہ یعقوب ایڈووکیٹ کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور کر لی۔ اے ٹی سی اسلام آباد نے تین وکلا کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کردیں۔

خیال رہے کہ 7 فروری کی رات سی ڈی اے اور مقامی پولیس نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف-8 کی ضلعی عدالتوں کے اطراف تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا تھا۔

اس آپریشن کے دوران وکلا کے غیرقانونی طور پر تعمیر کردہ دفاتر بھی گرا دیئے گئے تھے۔

پولیس نے اس آپریشن کے خلاف مزاحمت کرنے پر 10 وکلا کو گرفتار بھی کر لیا تھا۔

بعد ازاں اگلے روز بڑی تعداد میں وکلا ضلعی عدالتوں پر جمع ہوئے اور اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچنے کے بعد وکلا نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے چیمبر پر دھاوا بولا اور املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے دیگر ججز نے مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اور انہوں نے پولیس ری انفورسمنٹ اور رینجرز کے کنٹرول سنبھالنے تک چیف جسٹس بلاک کا گھیراؤ جاری رکھا۔

بعدازاں وکلا کے منتخب نمائندوں نے ججز کے ساتھ مذاکرات کیے اور احتجاج ختم کرنے کے لیے اپنے مطالبات پیش کیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں