این اے 75 ڈسکہ ضمنی انتخابات میں کیسے دھاندلی کروائی گئی؟ ثبوت سپریم کورٹ میں جمع

این اے 75 ڈسکہ ضمنی انتخابات میں کیسے دھاندلی کروائی گئی؟ ثبوت سپریم کورٹ میں جمع

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ این اے 75 ڈسکہ میں ضمنی انتخابات کے دوران مبینہ دھاندلی اور فائرنگ کے واقعات کے بعد چیف سیکریٹری پنجاب کو سات فون کالز کیں مگر جواب نہ ملا۔

الیکشن کمیشن نے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخاب سے متعلق حلقے کا نقشہ اور تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چیف سیکریٹری پنجاب کو صبح 4 بجے 22 منٹ کے اندر 7 فون کیے، لیکن جواب نہ ملا۔ چیف سیکریٹری کوتمام کالز 20 فروری کی صبح کی گئیں۔

الیکشن کمیشن نےدیگرافسران کو کی گئی کالز کا ریکارڈ بھی سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔

الیکشن کمشین کی رپورٹ کے مطابق حلقے کے 38 پولنگ اسٹیشنز پرفائرنگ کے واقعات پیش آئے۔ حلقے کے 54 پولنگ اسٹیشنز پر ٹرن آوَٹ 35 فیصد سے کم تھا۔

الیکشن کمیشن نے لاپتہ پریذائڈنگ افسران کے پولنگ اسٹیشنز میں غیر موجودگی کی تفصیلات بھی پیش کردہ نقشے میں شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کے جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ الیکشن کمیشن کی جمع کردہ رپورٹ اور پی ٹی آئی کے امیدوار کی درخواست پر کل سماعت کرے گا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل عدالت میں جمع کرائی گئی اپنی رپورٹ میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا تھا کہ پنجاب حکومت نے این اے 75 ڈسکہ میں ضمنی الیکشن میں من پسند افسران تعینات کر کے انتخابات متنازع بنائے۔

این اے 75 ڈسکہ انتخابات کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے تحریری جواب میں الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ حکومتی عہدیداران، سیکیورٹی ایجنسیز اور سیاسی نمائندوں نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں