پاکستانی خبریں

مولانا فضل الرحمان کا نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ، پی ڈی ایم کے اجلاس پر تبادلہ خیال

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موممنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ٹیلی فونک رابطے میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے مابین تلخ گفتگو پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نواز شریف نے آصف زرداری کی ’گفتگو‘ اور فضل الرحمان نے پی پی کے شریک چیئرمین کے ’غیرجمہوری‘ رویے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

ن لیگ کے قائد کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی ایسی گفتگو سے سخت دکھ اور تکلیف پہنچی، ہم تو 90 کی دہائی کی سیاست دفن کرکے آگے بڑھے تھے پھر الزام تراشی کیوں؟

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مجھے خود زرداری صاحب کے غیر جمہوری رویے سے دکھ پہنچا ہے۔

مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف نے گفتگو کے دوران آئندہ کی حکمت عملی پر بھی غور کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ مجھے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی ڈر نہیں ہے، اگر لڑنا ہے تو ہم سب کو جیل جانا پڑے گا۔

آصف زرداری نے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ جمہوری قوتوں نے دھاندلی کا سامنا کیا ہے۔ اپنی زندگی کے 14 برس جیل میں گزارے ہیں۔

آصف زرداری نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب پلیز پاکستان تشریف لائیں۔ میاں صاحب،آپ کیسےعوامی مسائل حل کریں گے؟ آپ نے اپنےدور میں تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا۔ میں نے اپنے دور میں تنخواہوں میں اضافہ کیا۔

 آصف زرداری نے کہا کہ نواز شریف اگر جنگ کیلئے تیار ہیں تو انہیں وطن واپس آنا ہوگا۔ میں جنگ کیلئے تیار ہوں مگر شاید میرا ڈومیسائل مختلف ہے۔ میاں صاحب آپ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے سابق آصف علی زرداری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اپنی مرضی سے یہاں ہوں۔

آصف زرادری کو مخاطب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ نیب کی تحویل میں میاں صاحب کی زندگی کوخطرہ ہے۔ میرے والد کو جیل میں 2 ہارٹ اٹیک ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مریم نواز نے کہا کہ ن لیگ نے بڑی جماعت ہونے کے باوجود پی ڈی ایم کا ساتھ دیا۔ پی ڈی ایم کے فیصلوں پرعمل کیا اور کرایا۔ پوری مسلم لیگ ن نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا۔

ذرائع کے مطابق ن لیگی رہنما مریم نواز نے کہا کہ پیپلز پارٹی استعفوں کے خلاف تھی،لیکن مسلم لیگ ن نے اتفاق رائے کیلئے حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ رہنمااور کارکنان نوازشریف کی طویل العمری کےخواہشمند ہیں۔ میں مسلم لیگ ن کی کارکن ہوں، میرا فیصلہ ہے کہ میں یہیں رہوں گی اور لڑوں گی۔

مریم نواز نے آصف زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک نواز شریف کی صحت ٹھیک نہیں ہوجاتی، انہیں واپس نہیں آنا چاہیے۔ آپ یہاں پاکستان میں موجود ہیں لیکن پھر بھی وڈیو لنک سے اجلاس میں شریک ہوتے ہیں۔ آپ کی طرح نوازشریف بھی وڈیو لنک سےاجلاس میں شریک ہوتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button