پاکستانی خبریں

حکومت معافی مانگنے کے بجائے الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہوگئی ہے: مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے وفاقی وزرا کی جانب سے الیکشن کمیشن کے مستعفی ہونے کے مطالبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری کابینہ اور حکومت معافی مانگنے کے بجائے الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہوگئی ہے۔

اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ کل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اجلاس ہے اور اس سلسلے میں مشاورتی اجلاس تھا جس کی صدارت لندن سے نواز شریف نے کی اور لاہور سے حمزہ شہباز اور دیگر رہنماؤں نے زوم پر شرکت کی، جہاں لانگ، مارچ، استعفوں اور دیگر مسائل پر تبادلہ خیال ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اجلاس میں تھے تو ان کے وزرا نے پریس کانفرنس کی ہے جبکہ ہم اپنے دور حکومت اور اس کے بعد سنتے آئے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اداروں پر حملہ آور ہوگئی، ان کو اداروں کا تحفظ کرنا چاہیے اور مسلم لیگ (ن) ادارو پر تنقید کرتی ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کے خلاف بات الزامات سے آگے نہیں بڑھی۔‎

انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم کو سمجھ آگئی ہوگی کہ اداروں پر تنقید کیا ہوتی ہے اور اداروں پر حملہ آور ہونا کیا ہوتا ہے، اگر ڈسکہ یا نوشہرہ یا وزیرآباد، سندھ، بلوچستان یا کے پی کے دیگر شہروں میں آپ کو ووٹ نہیں ملا تو اس میں الیکشن کمیشن کا کیا قصور ہے اور وہ بدلہ آپ الیکشن کمیشن سے کیوں لے رہے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ آپ کی بدترین دھاندلی کے باوجود آپ کو ووٹ نہیں ملے، لوگوں نے آپ کو مسترد کردیا ہے اورجو ڈسکہ میں ہوا، پورا دن فائرنگ اور خوف و ہراس پھیلایا گیا جس کو پوری قوم نے دیکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنی بدترین دھاندلی شاید آمریت کے ریفرنڈم میں بھی نہیں دیکھی گئی اور اس کے بعد تب بھی آپ کا بس نہیں چلا اور ووٹ پورے نہیں ہوئے تو 20 پریزائیڈنگ افسر اغوا کرلیے، ادارے پر حملہ آور ہونے، ان کے عہدیداروں کو حبس بے جا میں رکھنے کی معافی مانگتے آپ الٹا اسی ادارے پر حملہ آور ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ جس ادارے کے اراکین کو آپ نے خود تعینات کیا ہے، اب پورے پاکستان کو سمجھ آگئی ہے کہ اداروں پر حملہ کرنا کیا ہوتا ہے اورجب ایک الیکشن کی بات آتی ہے تب جو بھاشن پوری دنیا کو آپ دیا کرتے تھے وہ کس طرح ہوا میں تحلیل ہوئے ہیں آج پوری دنیا نے آج اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

استعفوں اورلانگ مارچ سمیت احتجاج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ آواز اٹھ بھی رہی ہے اور سنی بھی جا رہی ہے، ان کوتکلیف آواز اٹھنے کی نہیں بلکہ عوام میں اس کی پذیرائی کی ہے، عوام نے ظلم اور انتقام کے باجود اس آواز سے اپنی آواز ملائی ہے یہ بہت حوصلہ افزا بات ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ اب پاکستان بہتر مستقبل کی طرف بڑھے گا اوریہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستان کو ایسا بنائیں جہاں سول بالادستی ہو، اچھی جمہوریت ہو، جہاں ووٹ کی عزت ہو اور ایسے حکمرانوں کو مسلط نہ کیا جایا جو کرکٹ کھیلتے کھیلتے اچانک آکر 22 کروڑ عوام کی قسمت کے مالک بن جائیں اور ان کی زندگیاں مہنگائی، لاقانونیت، اپنی نااہلی اور نالائقی سے تباہ و برباد کردیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان چیزوں کو ہمیشہ کے لیے سدباب ہونے جا رہا ہے جو ہت خوش آئند بات ہے اوریہ تبدیلی پاکستان کے مستقبل کے لیے اچھی ہے اورملکی ترقی کا راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم 10 جماعتوں کا اتحاد ہے، ہر جماعت کا اپنا الگ سیاسی مؤقف اور حقیقت ہے جس کو دیکھ کر بات کرتی ہے لیکن یہ اچھی بات ہے کہ بڑے مقصد کے لیے ہم متحد ہیں۔

استعفوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استعفوں پر کل پی ڈی ایم میں فیصلہ ہوگا، جواستعفوں کو نہیں مان رہے ہیں، ان کو منانے کی پوری کوشش کریں گے، ہم نے بھی ان کی باتیں مانی ہیں اور عوام کے وسیع مفاد میں اور اس حکومت سے نجات کے لیے آخری دھکا ضرور لگانا چاہیے۔

مریم نواز نے کہا کہ نیب نے لاہورہائی کورٹ میں میرے خلاف جو درخواست دی ہے اس پر آج سماعت تھی، وہ درخواست ایک مضحکہ خیز ہے کیونکہ نیب نے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داری سے ہٹ کر دوسری ذمہ داریاں خود اپنے آپ کو سونپ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سنا تو یہ تھا کہ نیب احتساب کا ادارہ ہے تو احتساب میں صرف الزامات اور انتقام تک رہے، ادارہ سیاسی انتقام تک رہا۔

انہوں نے کہا کہ نیب جب الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا تو اب خود ہی ایک ٹھیکا اٹھایا ہے کہ وہ سیاست دانوں اور عوامی نمائندوں کے بیانات بھی جانچا کرے گا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اصولی جدوجہد کررہی ہے اور اس میں صرف جاوید لطیف ہی نہیں بلکہ بیشتر رہنما بھگت چکے اور سر اٹھا کر بھگت رہے ہیں پھر بھی مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی قیادت میں متحد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جوابات دینے کی باری اب اس جعلی حکومت، عمران خان اور اس کے لوگوں کی ہے۔

Related Articles

Back to top button