ہم ووٹنگ کیلئے الیکٹرانک مشینز لیکر آئیں گے، وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی سے خطاب

ہم ووٹنگ کیلئے الیکٹرانک مشینز لیکر آئیں گے، وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی سے خطاب

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے الیکٹورل ریفارمز کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہم ووٹنگ کیلئے الیکٹرانک مشینز لیکر آئیں گے، تاکہ دھاندلی کاکوئی نہ کہے

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں کا دل سے شکریہ اداکرتاہوں ، اتحادی اب بھی اورہرمشکل وقت میں ساتھ کھڑے رہے، حفیظ شیخ کے الیکشن میں جب ہارے تو آپ سب کو دیکھ کر ایک ٹیم نظرآئی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ کہتاہے بڑا انسان بننا ہے تو مشکل وقت کا سامنا کرو، پارٹی بھی اسوقت تگڑی ہوتی ہے جب مشکل وقت سے نکلتی ہے، آج اپنی پارٹی کو خراج تحسین پیش کرتاہوں، انفرادی طورپر پتہ ہے، کتنے ایم این نے پہنچنے کی کوشش کی ، تمام ایم این ایز کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے بھولناچاہیے کہ یہ پاکستان کیوں بنا تھا، قومی کسی مقصد کیلئے بنتی ہیں، ہماری لیڈرشپ ہے اس کو پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک عظیم خواب تھا، میراہاتھ غلطی سے دائیں جانب چلا گیا ہماری لیڈر شپ تو بائیں جانب بیٹھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل میں پاکستان کامقصد یہ تھا کہ اسلامی ریاست کیا ہوتی ہے ، اللہ فرماتے ہیں میں آپ کے ایمان کو بار بار دہراؤں گا، جب آپ مشکل وقت سے نکلتے ہیں تو اور مضبوط ہوتے ہیں، پاکستان اس لئے نہیں بنا تھا کہ وہاں ٹاٹابرلا اور یہاں شریف ،زرداری اربوں پتی بن جائیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دین اسلام انسان کے کردار کو ریفارم کرنے کیلئے دنیا میں آیا، دنیا کے سب سے عظیم لیڈر نبیﷺ جیسا انسان نہ کبھی آیا نہ آسکتاہے، نبیﷺ کے راستے پر جو جو چلتا گیا وہ عظیم انسان بنتا گیا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نظریے اور مقصد کے بغیر قومیں مرجایاکرتی ہیں، لوگ کہتےہیں اگرپاکستان نہ بنتاتومسلمانوں کی زیادہ طاقت ہوتی، ہندوستان میں مسلمانوں کایہ حال نہ ہوتاجوآج ہے، جن لوگوں کی حیثیت نہیں تھی وہ تاریخ کاحصہ ہیں، انہوں نے دیکھتے دیکھتے15 سے20سالوں میں دنیاکی امامت کی، ایک تباہی کاراستہ ہے اور دوسراعظمت کا۔

سینیٹ انتخابات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ جو سینیٹ الیکشن ہوا اس کے بعدمجھے شرمندگی ہوتی ہے، لوگوں کو خریدنے کیلئے بکرا منڈی بنی ہوئی تھی، حیرت ہے کہ الیکشن کمیشن نے جویہ الیکشن اچھا کرایا ہے تو برا کون سا ہوتاہے، الیکشن کمیشن کہتاہےکہ بڑا اچھا الیکشن کروایا اس سے تو مجھے مزید صدمہ ہوا، ایک ماہ سے پتا تھا کہ سینیٹ الیکشن کیلئےپیسہ جمع کیاجارہاہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پہلے ہماری قوم کو اخلاقی طورپرتباہ کیاگیا پھر معاشی تباہی آئی، ہم کہتےہیں معاشی حالات بہت برےہیں، یہ جوقرضےچڑھےہوئے ہیں، یہ بیماری کی علامات ہیں بیماری کچھ اورہے، ایک ملک کابتادیں جس کااخلاقیات،مورل اسٹینڈراوپرہواوروہ غریب ہو ، کوئی ملک بتادیں جتنامرضی پیسہ وسائل ہوں اگرلیڈرشپ کرپٹ ہوتوخوشحالی ہو؟ مغربی ممالک میں اخلاقیات دیکھیں توہمیں اپنے ملک کو دیکھ کر شرم آئے گی۔

زرداری اور نواز شریف سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا میں ثابت ہوچکے ہیں کہ آصف زرداری کرپٹ آدمی ہے ، دنیا میں سب کہتے ہیں آصف زرداری مسٹر ٹین پرسنٹ ہیں، نوازشریف 30سال ملک کو لوٹتا رہا، نوازشریف ڈاکو ہے جو ملک سے بھاگا ہواہے، نواز شریف کی حالت دیکھ کر تو کابینہ میں شیریں مزاری کے آنسوں آگئے ، شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسوں آجانا کوئی مزاق بات نہیں۔

انھوں نے کہا کہ دیکھ کر شرم آتی ہےکہ ہمارے ملک میں کیاہورہاہے، سب بڑے ڈاکواکٹھےہوکرسوچ رہےہیں عمران خان کوکرسی کاشوق ہے، مولانافضل الرحمان دونمبرہمیشہ سےتھا، مشرف نے ان دونوں کواین آراودیاملک پربہت بڑاظلم کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب تک ملک میں اخلاقیات ٹھیک نہیں کریں گے ، تب تک مسائل حل نہیں ہوں گے ، شیخ رشید ٹھیک کہتے ہیں بڑھتی مہنگائی میں کم تنخواہ پر غریب کیسے گزارا کرے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ یقین سے کہتاہوں ان کو خود نہیں پتہ ان کا باہر کتنا پیسہ پڑاہے، 30سال چوری کے بعد یہ کوشش کررہےہیں کہ حکومت گرا دیں گے، اپنی کرپشن بچانے کیلئے یہ حکومت پردباؤ ڈالنے کی کوشش کررہےہیں ، میں ڈھائی سال سےتماشےدیکھ رہاہوں، یہاں وزیراعظم کوتقریرلکھ کردےدی جاتی تھی۔

اپوزیشن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں ڈرتھا کہ میں ان کےکرپشن کےکیسزمعاف نہیں کروں گا ، کرپشن کیسزہم نےنہیں بنائے ان کے دور کے بنے ہوئے تھے، عدلیہ ان کی تھی ان کوتومسئلہ کوئی نہیں تھا، ان کاتوپیسہ سوئس اکاؤنٹ میں پڑاہواتھا، جج کہہ رہاہےوہ پیسہ واپس لاؤتویہ کہتامیں نہیں لاؤں گا، بھائی وہ آپ کےباپ کاپیسہ تھا،وہ توقوم کاپیسہ تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی تو بڑی ہےاورلوگوں کاتنخواہوں میں گزارانہیں ہورہا، ان کوخودنہیں پتاکہ ان کےپاس کتناپیسہ پڑاہے، ان کی کوشش ہےکہ عمران خان پرپریشرڈالوکبھی کہتےہیں حکومت گرا دیں گے۔

گرے لسٹ سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان فیٹف کی گرےلسٹ میں ہمارے دورمیں نہیں،ن لیگ دورمیں آیا، پاکستان بلیک لسٹ میں جاتاہےتومعیشت نیچےگرجائےگی، لوگوں کوجومشکل پڑی ہےمہنگائی کی وجہ وجہ ہماراروپیہ نیچےہے، ان لوگوں نےتومہنگےداموں بجلی کےمعاہدےکیے۔

انھوں نے کہا کہ ملک کا پیسہ چوری ہوگا تو لاہور شہر ضرور نکلے گا، بڑے ڈاکو اپنی چوری بچانے نکلیں گے تو لاہور شہر نہیں آئے گا ، ان کاون پوائنٹ ایجنڈاہےکہ انکےچوری کےکیسزختم ہوجائیں، ان کاصرف ایک خوف ہےکہ میں این آراونہیں دوں گا، مجھے بلیک میل کرنےکی کوشش کی گئی ،کہا یہ فیٹف پرپھنس جائے گا۔

یوسف رجا گیلانی کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یوسف رضاگیلانی پاکستان کا کرپٹ ترین آدمی ہے، ان کےوزیراعظم بننے سے پہلےاوربعدکے اثاثے دیکھ لیں، یوسف گیلانی کو جتوانے کیلئے حفیظ شیخ کو ہرادیا گیا، راتوں کو لوگوں کو کالز کی گئیں کہ 2کروڑ سے ریٹ شروع ہوگا، ہماری خواتین اراکین کو کالز کی گئیں کہ پیسے دیں گے۔

عمران خان نے کہا میں ڈھائی سال بڑی چیزیں برداشت کرتارہاہوں، انہوں نےخودچارٹرڈآف ڈیموکریسی میں کہاکہ اوپن بیلٹ ہوناچاہئے، پھریہ سب بھاگ گئےاورکہنےلگےخفیہ بیلٹ ہونی چاہئے، تمام لوگوں کےسامنےاوپن ہارس ٹریڈنگ کی گئی،الیکشن کمیشن پاکستان کی ایجنسیزسےسیکرٹ بریفنگ لیں پتاچلےگاکتناپیسہ چلا، ڈھائی سال میں جو جدوجہد کی وہ زندگی کی سب سے مشکل جدوجہد تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک زرداری نے ہاتھ نہیں ماراتھااسٹیل مل 8ارب منافع میں تھی، انھوں نے ایک ایک ادارہ تباہ کیا ،لوگوں کی بھرتیاں کیں، اتنے لوگ بھرتی کئے کہ پنشن اورتنخواہ کے بعد بہتری کیلئے کچھ نہیں بچتا، سب سے بڑامالیاتی اور کرنٹ اکؤنٹ خسارہ ہمیں ورثے میں ملا، اب دیکھ لیں اسٹیل مل بندپڑی ہےایک ایک ادارہ انہوں نےتباہ کردیا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ڈالر ملک سے زیادہ باہرجارہےہوں اندرکم آرہےہوں توروپیہ پرپریشرپڑتاہےاورگرجاتاہے، تین بار وزیراعظم بننےوالے کے دونوں بیٹے لندن میں ہیں، جس علاقے میں رہ رہے ہیں وہ بڑے بڑے امید رہتے ہیں، ساری قوم کےسامنے یہ ہورہاہے ملک ایسے آگے نہیں بڑھ سکتا ہوں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عدلیہ،نیب جو مدد چاہیے حکومت ساتھ ہے، جب تک لوگوں کو سزائیں نہیں ملیں گی تب تک معاشرہ ٹھیک نہیں ہوسکتا، نوازشریف نے پاکستان کا وزیراعظم بن کراقامہ رکھاہواتھا، کہیں سناہےکہ ملک کاوزیراعظم دوسرےملک میں نوکری کررہاہو، ان کےوزرابیرون ملک میں نوکریاں کررہےتھے، یہ سب طریقہ ملک سےپیسہ باہرلےجانےکیلئےتھا۔

کرپشن کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ میں اکیلاکرپشن ٹھیک نہیں کرسکتا، عدلیہ یانیب پرمیراکوئی کنٹرول نہیں ہے لیکن عدلیہ اورنیب کومیری حکومت سے جو مدد چاہئے دینے کو تیارہیں، معاشرہ کرپشن کیخلاف لڑتاہے، معاشرہ فیصلہ کرتاہےکہ کرپشن نہیں ہونے دینی۔

معاشی صورتحال سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 17سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں گیا ، اللہ کاکرم ہےملک میں زیادہ ڈالرآرہےہیں ، ہم پیسہ نہیں لگارہے پیسہ خود اپنی جگہ بنارہاہے،کوروناکی وجہ سےدنیاکی اکانمی بری طرح متاثرہوئی۔

عمران خان نے کہا کہ اگرملک کوبچاناہےتومعاشی طورپربچاناہے، پہلےہمیں اپنی اخلاقیات اورمورل اسٹینڈرڈٹھیک کرنےپڑیں گے ، جب انصاف اورعدل معاشرے میں آتا ہے توملک ترقی کرتاہے، میں صرف یہ کہناچاہتاہوں کہ مجھے قوم کی مددکی ضرورت ہے، بیرون ملک پاکستانیوں نے ریکارڈ پیسہ ملک میں بھیجا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں آنے والی نسلوں کوبچاناہے ، آخری گیندتک لڑنےوالاکپتان تھا،ہارنہیں مانوں گا، یہ سب بھی مجھے چھوڑ دیں تو اکیلا لڑوں گا پر ہار نہیں مانوں گا۔

مہنگی بجلی سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں بجلی کےمہنگے معاہدےکیےگئےتھے ، جس سے مہنگی بجلی پیداہورہی ہے، بجلی کی قیمت بڑھاتے ہیں تو لوگ مزید پریشان ہوں گے، قوم کوبتاناچاہتاہوں ہم ہرطریقہ سوچ رہےہیں کیسےبوجھ کم کریں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ آگےہماراچیلنج ہےکہ اپنی ایکسپورٹس کوبڑھائیں، گروتھ بڑھانےکاصرف ایک طریقہ ہےوہ ایکسپورٹ ہے، اب ہم انویسمنٹ پر لگے ہوئےہیں، ایس ای سی پی میں سب سےزیادہ کمپنیزرجسٹرڈہوئی ہیں، لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار ہوگئے ہیں۔

کےپی کے تمام خاندان کے پاس ہیلتھ انشورنش ہے، پنجاب بڑا ہے انھوں نے بھی ہیلتھ کارڈ دینےکافیصلہ کرلیا ہے، اس سال کےآخر تک عثمان بزدار کی ٹیم بھی پورے پنجاب تک ہیلتھ کارڈ پہنچادےگی،وزیراعظم

کسانوں کیلئےبہت زبردست پروگرام لےکرآرہےہیں، اپنے ملک میں دولت کےاندر اضافہ کرنےسے قرضوں سے نکلا جاسکتا ہے ، راوی سٹی لاہور ، والٹن روڈ پر بزنس سینٹر بنانے جارہےہیں۔

کراچی کے پاس جزیرے پر بنڈل آئی لینڈ بنانے کا پروگرام ہے، ماحولیات کیلئے بڑے پیمانے پر اربن فاریسٹ لگانے لگے ہیں، بنڈل آئی لینڈ کا بھی مقصد یہ ہے کہ کراچی کے سیوریج کاٹریٹ کریں، ہماری کوشش ہے کراچی کو پھیلانے کے بجائے اوپر کی طرف لیکرجائیں،وزیراعظم

50سال بعد پاکستان کی تاریخ میں دو بڑے ڈیم بنانے جارہےہیں، پاکستان کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا، ہمارے ملک میں اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت موجود ہے، اس ملک میں جوپوٹینشل ہےشایدہی کسی ملک میں ہو، چین کیساتھ ملکر پیداوار بڑھانے کیلئے بھی کام کررہےہیں، ٹیکنالوجی کی نئی لہر میں نوجوان آبادی کو اوپر لیکر آئیں گے۔

ہم نے الیکٹورل ریفارمز کا فیصلہ کیا ہے، ہم ووٹنگ کیلئے الیکٹرانک مشینز لیکر آئیں گے، تاکہ دھاندلی کاکوئی نہ کہے ، اوورسیزپاکستانیوں کیلئےاقدامات اٹھارہےہیں کہ وہ بھی ووٹ ڈال سکیں، امریکامیں کوئی ثابت نہیں کرسکاکہ دھاندلی ہوئی کیوں کہ وہاں الیکٹرانک مشین تھی، یہ تمام چیزیں ہماری حکومت میں ہونگی ،وزیراعظم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں