من پسند افسران کو لگانے کا مقصد ن لیگ ووٹرز کو ووٹ ڈالنے سے روکنا تھا، ن لیگی وکیل کا موقف

من پسند افسران کو لگانے کا مقصد ن لیگ ووٹرز کو ووٹ ڈالنے سے روکنا تھا، ن لیگی وکیل کا موقف

پاکستان تحریک انصاف نے سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے حلقہ این اے75 کے انتخابات میں دھاندلی کے متعلق کیس میں اپنا وکیل تبدیل کر لیا ہے۔الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے امیدوارعلی اسجد کی وکالت اب علی ظفر کریں گے قبل ازیں علی بخاری پی ٹی آئی کی جانب سے وکالت کر رہے تھے۔

سماعت کے دوران ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اپنایا کہ من پسند افسران کو لگانے کا مقصد ن لیگ کے مضبوط پولنگ اسٹیشنز پرووٹرز کو ووٹ ڈالنے سے روکنا تھا۔ جب ووٹرز کو روکنے کے باوجود ہار دکھائی دی تو پریزائیڈنگ افسران کو اغوا کرلیا گیا۔

چیف الیکشن کمشنر جو ملک میں شفاف الیکشن کے ضامن ہیں وہ اعلی افسران سے رابطہ نہ کر پائے۔ جن پولنگ اسٹیشن کے پی او غائب ہوئے وہاں ووٹنگ کی شرح 80 فیصد رہی۔

یہ واضح سکیم تھی الیکشن میں فراڈ کرنے کی۔ اسکیم تھی نوشین افتخار کے مضبوط علاقوں میں ووٹنگ کم رکھی جائے ، اور اپنی ہار کی کمی کو 20 پولنگ اسٹیشن سے انھوں نے پورا کیا۔

ن لیگ کے وکیل نے کہا حلقے میں پورے دن فائرنگ ہوتی رہی، پولیس خاموش کھڑی رہی۔ وہ جانتے تھے کہ ن کا مرکزی گڑھ کون سے پولنگ اسٹیشن ہیں۔ ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن داخلے سے روکا گیا۔ ان جگہوں پر ٹرن آوٹ 35 فیصد سے کم رہا اور دیگر پولنگ اسٹیشن میں پچاس فیصد سے اوپر گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں