الیکشن کمیشن طلبی کے باوجود فیصل واوڈا آج بھی پیش نہ ہوئے

الیکشن کمیشن طلبی کے باوجود فیصل واوڈا آج بھی پیش نہ ہوئے

الیکشن کمیشن نے نااہلی کیس میں عدم پیشی کے باعث پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں10 مارچ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔الطاف ابراہیم کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے نااہلی کی درخواستوں پر سماعت کی اور فیصل واوڈا کی طرف سے ان کے وکیل محمد بن محسن پیش ہے۔

الیکشن کمیشن کے طلب کرنے کے باوجود وفاقی وزیر فیصل واوڈا آج بھی پیش نہیں ہوئے۔ ممبر الیکشن کمیشن الطاف ابراہیم نے استفسار کیا کہ گزشتہ سماعت میں فیصل واوڈا کو پیش ہونے کا کہا گیا تھا۔

وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ گزشتہ سماعت کا حکم نامہ نہیں ملا جس میرے موکل پیش نہیں ہو سکے۔ وکیل نے انکی عدم پیشی پر الیکشن کمیشن سے معذرت بھی کی۔

وکیل محمد بن محسن نے بتایا کہ فیصل واوڈا کا جواب پہلے ہی جمع کروا چکے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا پر عائد 50 ہزار روپے جرمانے کی رقم پاکستان سویٹ ہوم کو دینے کی ہدایت بھی کی۔

وکیل فیصل واووڈا نے مؤقف اپنایا کہ پہلے کمیشن اپنے دائرہ اختیار اور درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کرے۔

ممبر کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی کی درخواستیں سننے کا اختیار رکھتا ہے۔ الیکشن کمیشن ہی متعلقہ فورم ہے جو دوہری شہریت کا کیس سن سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن ممبر نے کہا کہ لگتا ہے فیصل واووڈا کمیشن کو کچھ سمجھتے ہی نہیں۔ وکیل فیصل واوڈا نے کہا الیکشن کمیشن ڈیڑھ سال بعد نااہلی درخواستوں پر سماعت نہیں کرسکتا۔

ممبر کمیشن پنجاب الطاف قریشی نے کہا قانون میں کہاں لکھا ہے کہ سماعت کا اختیار نہیں؟ بہتر ہوگا اپنا اور ہمارا وقت ضائع نہ کریں۔

صاف صاف بتائیں فیصل واوڈا کیوں نہیں آئے؟ کیا فیصل واووڈا قانون سے بالاتر ہیں؟ جس پارلیمان کے وہ رکن ہیں کیا انہیں اسکی بالادستی کا احترام نہیں؟ فیصل واوڈا اتنے قانون سے بالاتر ہیں کہ طلبی کی باوجود جواب بھی نہیں دیا۔

جہاں اتنے جھوٹ بولے ایک جہاز کا ٹکٹ نہ ملنے کا بھی بول دیتے۔ فیصل واووڈا جس پارلیمان کے رکن ہیں اسکو عزت دیں۔

وکیل فیصل واوڈا نے استدعا کی کہ سیکشن 3 کے تحت الیکشن کمیشن 9 فروری کے حکمنامہ پر نظرثانی کرے۔

ممبر الیکشن کمیشن ارشاد قیصر نے کہا کیا وکیل کی غیر حاضری پر عدالتیں اپنے حکم واپس لیتی ہیں؟

الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا کی جانب سے درخواستوں کے ناقابل سماعت ہونے کی درخواستیں بھی مسترد کر دی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کے ذاتی حیثیت میں طلبی کا حکم واپس لینے کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔

کمیشن نے فیصل واوڈا کے خلاف چار درخواستوں میں سے محمد اسلم کی ایک درخواست عدم پیروی کے باعث خارج کر دی ہے جبکہ باقی درخواستوں پر کارروائی جاری رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں