ڈسکہ ضمنی الیکشن؛ ریٹرننگ افسر کا الیکشن کمیشن میں اہم بیان

ڈسکہ ضمنی الیکشن؛ ریٹرننگ افسر کا الیکشن کمیشن میں اہم بیان

این اے 75 کے ضمنی انتخاب کے لئے مقرر ریٹرننگ افسر نے الیکشن کمیشن کے روبرو بیان میں کہا ہے کہ این اے 75 میں کوئی نتیجہ تبدیل نہیں ہوا۔

چیف الیکشن کمیشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے این اے 75 کے ضمنی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار کی درخواست پر سماعت کی۔

نوشین افتخار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے این اے 75 میں دوبارہ پولنگ کی استدعا کردی، انہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ بات صرف بیس پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی نہیں، الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز تاریخی دستاویز ہے، پریس ریلیز میں اعلی ترین سطح پر دھاندلی کی نشاندہی کی گئی، یہ پہلا الیکشن ہے جہاں بیس ریٹرننگ افسران غائب ہوگئے، پولنگ کے دوران اور بعد میں آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب سمیت سب ہی لاپتہ تھے، تمام لاپتہ پریزائیڈنگ افسران ایک ساتھ ہی سامنے آئے، جس ڈی ایس پی کو الیکشن کمیشن نے ہٹایا تھا اسے ایس پی بنا کر تعینات کیا گیا، این اے 75 میں فائرنگ ہوئی جس سے لوگوں کی جانیں گئیں، الیکشن کمیشن کو آئینی ذمہ داری ادا کرنے سے روکا گیا۔

این اے 75 کے ریٹرننگ افسر نے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوکر اپنی رپورٹ پیش کردی، ریٹرننگ افسر نے الیکشن کمیشن کے روبرو اپنے بیان میں کہا کہ این اے 75 میں کوئی نتیجہ تبدیل نہیں ہوا، جو نتائج بعد میں ملے وہ وہی تھے جو واٹس ایپ پر آ چکے تھے، بعض پریزائیڈنگ افسران کے نتائج وٹس ایپ پر بروقت آ گئے تھے، کچھ کا رزلٹ صبح 6 جب کہ کچھ کا 7 بجے ملا،رات کو ساڑھے تین بجے لیگی امیدوار نے شکایت کی، جس پر ڈی ایس پی ڈسکہ کو پریزائیڈنگ افسران کے ساتھ تعینات پولیس سے رابطے کا کہا گیا، پولیس افسران کا بھی تعینات عملے کے ساتھ رابطہ نہیں ہوسکا۔

چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے استفسار پر ریٹرننگ افسر نے کہا کہ صبح 3 بج کر 37 منٹ تک337 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج آر ایم ایس میں جمع ہوچکے تھے،20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج نہیں مل رہے تھے، ان سے رابطہ بھی نہیں ہوپارہا تھا،ایک پریزائیڈنگ افسر کے علاوہ کسی کا فون نہیں مل رہا تھا، یہ تمام 20 پولنگ اسٹیشنز 30 سے 40 کلومیِٹر کے احاطے میں ہیں، اس رات موسم خراب تھا، پریزائیڈنگ افسران کو گاڑیاں فراہم کی ہوئی تھیں، یہ ممکن نہیں تھا کہ پریزائیڈنگ افسر اکیلا ہو ان کے ساتھ پولیس بھی ساتھ تھی۔ 4 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج پر پریزائیڈنگ افسر کے دستخط ہیں، کچھ پولنگ اسٹیشنز کے نتائج انگوٹھوں کے نشانات نہیں ہیں۔

ممبر پنجاب الطاف قریشی نے استفسار کیا کہ کیا موبائل کمپنیوں سے پریزائیڈنگ افسران لوکیشن معلوم کرائی؟ جس پر ریٹرننگ افسر نے کہا کہ ڈی پی او کا نمبر بند تھا ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ جب آپ نے رابطہ کیا تو گھبرائے ہوئے تھے، آپ نے کہا تھا ہماری جان کو خطرہ ہے، کیا انتظامیہ نے آپ سے تعاون نہیں کیا تھا؟ جس کے جواب میں ریٹرننگ افسر نے کہا کہ آر او آفس میں نعرے بازی ہو رہی تھی کارکنان دیواروں پر بھی چڑھے ہوئے تھے، مجمع بہت زیادہ تھا اس لئے گھبرا گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے آر او کی رپورٹ فریقین کو دینے کی ہدایت کردی۔

پی ٹی آئی امیدوار علی اسجد ملہئ کے وکیل علی بخاری نے دلائل دیے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے، پہلے کہا گیا 3 ہزار ووٹوں سے جیت رہے ہیں،جیت رہے تھے تو دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیوں کر رہے؟ نوشین افتخار کی درخواست کے ساتھ کوئی تصدیق شدہ دستاویز نہیں،بہتر ہوتا کہ انتخابی نتائج کو ٹربیونل میں چیلنج کیا جاتا۔ لیگی درخواست آج ملی ہے اس پر دستاویزات جمع کرائیں گے، آئندہ ہفتے تک کا وقت دیا جائے، ن لیگ کی طرح غیر تصدیق شدہ دستاویزات نہیں دینا چاہتے۔

پی ٹی آئی امیدوار علی اسجد ملہی نے کہا میرے آبائی علاقہ کے پولنگ سٹیشنز پر اعتراض کیا جا رہا ہے،بیس میں سے 18 سٹیشنز کے فارم 45 لیگی امیدوار کے پاس ہیں،آر او نے خود کمیشن کو بتایا کہ وٹس ایپ پر نتائج آ چکے تھے۔

چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ وقت کم ہے اتنا ٹائم نہیں دے سکتے، دیےاصل ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے، کل تک تمام شواہد اور دستاویزات جمع کرائیں، ممبر پنجاب الطاف قریشی نے ریمارکس دیے اب دھند نہیں ہے، ڈسکہ جانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، ممبر بلوچستان نے کہا کہ اپنے پولنگ ایجنٹوں سے ریکارڈ لے کر جمع کرائیں، این اے 75 کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں