وفاقی وزرا قانونی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں: مرتضیٰ وہاب

وفاقی وزرا قانونی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں: مرتضیٰ وہاب

سندھ حکومت نے کہا ہے کہ وفاقی وزرا حلیم عادل شیخ کے معاملے میں قانونی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے پیر کو کراچی میں پریس کانفرنس میں کہا وفاقی وزرا خود کو وفاق کے نمائندے کہتے ہیں لیکن یہ قانونی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، حالاںکہ عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ 2 نہیں، ایک ایسا پاکستان بنائیں گے جس میں قانون کا اطلاق ہر طبقے پر ہوگا۔

سندھ حکومت کے ترجمان نے صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل کی گرفتاری اور مقدمات کے سلسلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے شدید ردِ عمل کے بعد کراچی میں خصوصی پریس کانفرنس کی، جس میں انھوں نے سوالات اٹھائے کہ اگر کوئی قانون ہاتھ میں لیتا ہے تو کیا ریاست کو خاموش رہنا چاہیے؟ کیا پی ٹی آئی اور اس کے کارکن قانون سے بالاتر ہیں؟

انھوں نے کہا حلیم عادل شیخ جدید اسلحے سے لیس ہو کر پی ایس 88 کے پولنگ اسٹیشن کا دورہ کر رہے تھے، الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا، کارروائی کے لیے ایس ایس پی ملیر کو الیکشن کمیشن کا حکم ملا، سندھ حکومت یا پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا اگر ہم عمران خان کے ایک پاکستان کی بات کرتے ہیں تو پھر پولیس تو قانون پر عمل کر رہی ہے، کسی ایم این اے، ایم پی اے کو الیکشن میں مہم چلانے کی اجازت نہیں، ملیر کی سیٹ ہماری سیٹ ہے لیکن ایک بار بھی وزیر اعلیٰ اور ناصر حسین شاہ ملیر نہیں گئے، جب کہ 16 فروری کو حلیم عادل پی ایس 88 کے پولنگ اسٹیشن کا دورہ کرتے ہیں، حلیم عادل بتاؤ، تم کون ہو الیکشن کمیشن کے ممبر ہو؟ کیا حلیم عادل شیخ پر قانون کا اطلاق نہیں ہوتا؟

ترجمان نے کہا ویڈیو میں فائرنگ ہوتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے، کھلے عام فائرنگ کریں گے اور پولیس خاموش رہے گی؟ اب یہ کہتے ہیں کہ پولیس نے غلط کارروائی کی، جب حلیم عادل ضمانت لینے عدالت گئے تو عدالت نے ریمانڈ دیا، پولیس اگر زیادتی کرتی تو دعا بھٹو و دیگر کو حلیم عادل سے ملنے نہ دیتی۔

انھوں نے مزید کہا کہ کہا جاتا ہے کہ خطرناک سانپ آیا ہے اور حلیم عادل شخ نے اس کو مار دیا، کمرے میں حلیم عادل کے پاس ڈنڈا بھی موجود تھا، اب سوال یہ ہے کہ سانپ خود آیا یا لایا گیا تھا؟

مرتضیٰ وہاب نے حلیم عادل کی طبیعت کی خرابی کے سلسلے میں وفاقی وزرا کی جانب سے ہونے والے دعوؤں اور اعتراضات کے جواب میں کہا کہ حلیم عادل کو طبیعت کی خرابی پر این آئی سی وی ڈی منتقل کیا گیا، یہ وہی اسپتال ہے جس کے بارے میں پی ٹی آئی کہتی ہے کہ خراب ہے، جو اسپتال برا پرفارم کر رہا ہے یہ اسی میں علاج کراتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہتے تھے کہ حلیم عادل نہیں چل سکتے لیکن وہ خود چل کر اسپتال گئے، کل کسی نے کہا حلیم عادل شیخ کی جان کو خطر ہ ہے، لیکن حلیم عادل مکمل سیکیورٹی میں اسپتال گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں