حلیم عادل گرفتاری؛ مؤثر احتجاج نہ ہونے پر گورنرسندھ تنظیمی عہدیداروں پر سخت برہم

حلیم عادل گرفتاری؛ مؤثر احتجاج نہ ہونے پر گورنرسندھ تنظیمی عہدیداروں پر سخت برہم

سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل کےمعاملے پر مؤثر احتجاج نہ ‏ہونے پر گورنرسندھ عمران اسماعیل نے تنظیمی عہدیداروں کی سرزنش کی۔ ‏

گورنر ہاؤس سندھ میں ایم پی ایز کےاجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ ارکان اسمبلی نے کہا ‏کہ احتجاج میں تمام ایم پی ایزایک ساتھ نظرنہیں آرہے، الگ الگ احتجاج ہورہاہےجس کی ‏وجہ سےوہ مؤثرنہیں ہے۔

ایم پی ایز نے کہا کہ اب تک چیف سیکریٹری اور آئی جی سندھ کواسلام آبادکیوں طلب نہیں ‏کیاگیا، دونوں کو بلاکر5،6گھنٹے انتظار کرائیں تاکہ انہیں پتہ چلے۔ ‏

گورنر سندھ نے مؤثر احتجاج نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور تنظیمی عہدیداروں کی ‏سرزنش کی۔ گورنر نے ہدایت کی کہ کیس میں وکلا بھرپور تیاری کےساتھ پیش ہوں اور حلیم عادل ‏شیخ سےملاقات کےلیےکل ایم پی ایزجیل جائیں۔

سعیدآفریدی نے کہا کہ پریس کلب پراحتجاج میں3،2ایم پی اےموجودتھےباقی نہیں تھے، باچاخان ‏چوک پر ہمیشہ پارٹی کےلئےبڑااحتجاج ہوتاہے۔

راجہ اظہرپر برہمی کا اظہارتے ہوئے گورنر نے کہا کہ آپ اکیلےکیوں وزیراعلیٰ ہاؤس احتجاج ‏کرنےگئے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ کارکنان کےگھر پرچھاپےپڑرہےہیں میرےپاس اورکوئی ‏راستہ نہ تھا۔

رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا کہ 23 فروری کو انتقامی کارروائی کے خلاف پریس کلب ‏پر احتجاج ہوگا، احتجاج میں کارکنان، اراکین، رہنما شرکت کریں گے۔

خرم شیر زمان نے کہا کہ سندھ حکومت کی طرف سے مسلسل انتقامی کارروائی کا سلسلہ جاری ‏ہے، انتقامی کارروائی کا سلسلہ نہ رکا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں