اوپن بیلٹ پر صدارتی آرڈیننس کے خلاف ایوان بالا میں قرارداد پیش

اوپن بیلٹ پر صدارتی آرڈیننس کے خلاف ایوان بالا میں قرارداد پیش

اوپن بیلٹ پر صدارتی آرڈیننس کے خلاف راجہ ظفر الحق نے ایوان بالا میں قرارداد پیش کر دی۔

اپوزیشن کی ریکوزیشن پر طلب کیے جانے والے سینیٹ اجلاس میں وقفے کے بعد اوپن بیلٹ کے ذریعے سینیٹ الیکشن کے لیے لائے جانے والے صدارتی آرڈیننس کے خلاف قائد حزب اختلاف ظفر الحق نے قرارداد پیش کی۔

راجہ ظفر الحق نے کہا اس قرارداد کا مقصد انتخابات کا قانون کے مطابق انعقاد ہے، حکومت نے سپریم کورٹ سے رابطہ کیا ہے، ابھی سپریم کورٹ نے رائے بھی نہیں دی اور صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا گیا، اب ہم کشمکش میں ہیں، کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ وقت ہے، صدارتی آرڈیننس نے سب کو مشکل میں ڈال دیا ہے، آئین کے مطابق خفیہ بیلٹنگ سے الیکشن ہونا چاہیے۔

سینیٹر رضا ربانی نے قرارداد پر گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ آرڈیننس قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش نہیں کیاگیا، چیئرمین سینیٹ کی رولنگ ہے آرڈیننس فوری پیش کریں، اکتوبر سے جنوری 2021 تک یہ بل قائمہ کمیٹی میں رہا، بل ابھی بھی قائمہ کمیٹی میں زیر التوا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا صدر عارف علوی نے آرٹیکل 89 کی خلاف ورزی کی ہے، ایسے صدر کے خلاف مواخذے کی قرارداد پر بحث کی جائے، آئین کی خلاف ورزی پر صدر کا احتساب ہونا چاہیے تھا، اداروں سپریم کورٹ اور پارلیمان کی سیاسی جماعت کے ایجنڈے کے لیے استعمال کی کوشش ہوئی۔

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ آرڈیننس کے اجرا پر صدر کے مواخذے کی بات درست ہے، اس ایوان پر یومیہ 4 کروڑ کا خرچ آتا ہے، اس طرح آرڈیننس جاری ہونا ہے تو پارلیمنٹ کو تالا لگا دیں، اگر آپ کی نیت ٹھیک ہے تو جائز طریقہ اپنائیں، آردیننس لانے کی بجائے پیسے وصول کرنے والوں کے خلاف جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔

مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے جواب دیا کہ یہ کہنا غیر واقعاتی بیان ہے کہ صدر نے غیر آئینی کام کیا، صدر کے خلاف سو بار مواخذہ لائیں، ناکامی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں