ڈینیئل پرل قتل کیس، سپریم کورٹ کا ملزم احمد عمر شیخ اور دیگر کو ڈیتھ سیل سے نکالنے کا حکم

ڈینیئل پرل قتل کیس، سپریم کورٹ کا ملزم احمد عمر شیخ اور دیگر کو ڈیتھ سیل سے نکالنے کا حکم

سپریم کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزم احمد عمر شیخ اور دیگر کو ڈیتھ سیل سے فوری نکالنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزمان کی رہائی کے کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

عدالت نے احمد عمر شیخ کو دو روز بعد سرکاری ریسٹ ہاؤس میں منتقل کرنے کا بھی حکم دیا جہاں ان کے اہلخانہ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک ساتھ رہ سکیں گے جبکہ احمد عمر شیخ کو سیکیورٹی کے ساتھ رکھا جائے گا اور موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات نہیں دی جائے گی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے عمرشیخ سمیت دیگر ملزمان کو حراست میں رکھنا بدنیتی قرار دیا، عدالت نے استفسار کیا کہ مرکزی ملزم عمرشیخ پاکستانی شہری ہے یا غیرملکی؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ احمد عمر شیخ کے پاس پاکستان اور برطانیہ کی شہریت ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کسی کو حراست میں رکھنے کا مطلب ہے بغیر ٹرائل جیل میں رکھنا۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ڈینئل پرل کے قتل کی ویڈیو میں بھی ملزم کا چہرہ واضح نہیں تھا۔

عدالت نے کہا کہ احمد عمر شیخ کو دو روز تک جیل میں بہتر جگہ پر کھلے کمرے میں رکھا جائے اور اس کے بعد ریسٹ ہاؤس منتقل کیا جائے۔

ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری نہیں کیا تھا۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا ڈینئل پرل کے ملزمان نے پورے پاکستان کو دہشت زدہ کیا، وفاق اور سندھ حکومت کو ایسے دہشت گردوں کی رہائی پر تشویش ہے۔ احمد عمر شیخ پاکستان کی عوام کے لیے خطرہ ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ احمد عمر شیخ کا دہشت گردوں کے ساتھ تعلق ثابت کریں، جن کارروائیوں کا ذکر کیا گیا ان سے احمد عمر شیخ کا تعلق کیسے جڑتا ہے؟

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ احمد عمر شیخ 18 سال سے جیل میں ہے۔ دہشت گردی کے الزام پر کیا کارروائی ہوئی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریاست سمجھتی تھی احمد عمر کے خلاف ڈینئل پرل قتل مضبوط کیس ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کل تک آپ کا اعتراض تھا کہ ہائی کورٹ نے وفاق کو نہیں سنا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا اصل اعتراض نوٹس والا ہی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں وفاقی حکومت کی نمائندگی نہیں تھی۔

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا سندھ حکومت نے ہائی کورٹ میں وفاق کو نوٹس نہ ہونے پر اعتراض کیا تھا؟ جس پر ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ہائی کورٹ میں وفاق کی نمائندگی نہ ہونے کا اعتراض نہیں اٹھایا۔

یاد رہے سپریم کورٹ نے ڈینیل پرل کیس میں سندھ حکومت کی ملزمان کی رہائی روکنے کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے احمد عمر شیخ سمیت دیگر ملزمان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں