اپوزیشن جماعتوں کا براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیٹی پر اعتراض

اپوزیشن جماعتوں کا براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیٹی پر اعتراض

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیٹی پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ جب براڈ شیٹ کا معاہدہ ہوا تو شیخ عظمت نیب پراسیکیوٹر تھے، شیخ عظمت کا براڈ شیٹ کیس کی تحقیقات کرنے کا حق نہیں بنتا۔

ان کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ معاملے سے متعلق مسلم لیگ ن کی پالیسی واضح ہے۔ سینیٹ اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن نے براڈ شیٹ معاملہ پر ایک بار پھر سینیٹ ہول کمیٹی بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ حکومت نے وعدہ کرکے کمیٹی کی تشکیل نہیں کی، براڈ شیٹ میں جن کے نام ہیں انہیں کمیٹی میں بلایا جائے، حکومت نے اپنی مرضی سے ایک الگ کمیٹی بنا دی۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر جاوید عباسی نے سینیٹ میں اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ براڈ شیٹ کے معاملے پر تماشہ لگا ہوا ہے، براڈ شیٹ کےمعاملے پر کمیٹی بنانے کا کہا تھا۔

جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ کمیٹی آف ہول سے بڑی کوئی کمیٹی نہیں ہو سکتی، معاملہ ایسا تھا جس پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے تھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی براڈ شیٹ پر تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل مسترد کر دی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ براڈشیٹ معاملے کی تحقیقات آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، کمیٹی سربراہ کی تعیناتی سے حکومت کی بد دیانتی سامنے آ چکی ہے۔

نیئر حسین بخاری کا کہنا تھا کہ شیخ عظمت سعید کو سربراہ بنانے کا مقصد ملبہ اپوزیشن اور سابقہ حکومتوں پر گرانا ہے، پیپلزپارٹی تحقیقاتی کمیٹی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ انتہائی اہم معاملہ ہے، اس معاملے پر شفاف طریقے سے تحقیقات چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے اعلان کیا تھا کہ براڈ شیٹ پر انکوائری کمیٹی کے سربراہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ ہوں گے۔

براڈ شیٹ معاملے پر چیئرمین نیب کو قائمہ کمیٹی میں طلب کرنے کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے یہ اعلان سماجی رابطے کے ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ پیغام میں کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں