پولیس کو بابر اعظم پر الزامات لگانے والی خاتون کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم

لاہور کی سیشن کورٹ نے پولیس کو قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم پر سنگین الزامات عائد کرنے والی خاتون کا بیان ریکارڈ کرنے اور قانون کے مطابق مزید کارروائی کا حکم دے دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج لاہور نعمان محمد نعیم نے بابر اعظم پر الزامات عائد کرنے والی خاتون حامزہ مختار کی درخواست پر سماعت کے تحریری حکم جاری کردیا۔

جج نے کہا کہ بابر اعظم پر شادی کرنے کے جھوٹے وعدوں اور جنسی استحصال کا نشانہ بنانے اور اسقاط حمل جیسے سنگین الزامات لگائے ہیں۔

عدالت نے حامزہ مختار کو متعلقہ تھانے ایس ایچ او نصیر آباد سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

خاتون کو ہدایت کی گئی ہے کہ عدت کے تحریری حکم کی مصدقہ نقل کے ساتھ ایس ایچ او نصیر آباد کے پاس پیش ہوں اور پولیس ان کا بیان قلم بند کر کے مقدمہ درج کرے۔

عدالت نے کہا کہ حامزہ مختار کی درخواست میں بابر اعظم کے خلاف لگائے گئے الزامات قابل دست اندازی جرم میں آتے ہیں، یہ حساس معاملہ ہے اس لیے پولیس قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

اس سے قبل 17 دسمبر 2020 کو خاتون نے لاہور ہائی کورٹ میں کرکٹر کے اہل خانہ کے خلاف بھی ہراساں کرنے کی درخواست دائر کردی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں حامزہ مختار نے آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور، محمد اعظم، فیصل اعظم سمیت دیگر کو فریق بنایا تھا۔

خاتون نے الزام عائد کیا کہ بابر اعظم کے اہل خانہ کی ایما پر ایس ایچ او ڈیفنس اے، ایس ایچ او نصیر آباد مجھے ہراساں اور بلیک میل کر رہے ہیں۔

انہوں نے مؤقف اپنایا تھا کہ عدالت ایس ایچ او اور بابر اعظم کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے۔

یاد رہے کہ خاتون حامزہ مختار نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابراعظم پر سنگین الزامات عائد کیے تھے اور کہا تھا کہ 2010 میں بابر اعظم نے انہیں پروپوز کیا جسے انہوں نے قبول کر لیا، ہم شادی کا فیصلہ کرچکے تھے لہٰذا ہم نے اپنے خاندانوں کو آگاہ کیا لیکن دونوں کے خاندانوں نے صاف انکار کیا جس کے بعد بابر اعظم اور میں نے کورٹ میرج کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ 2011 میں بابر اعظم مجھے کورٹ میرج کا کہہ کر میرے گھر سے بھگا کر لے گئے اور ہم مختلف مقامات پر کرائے کے مکانوں میں قیام پذیر رہے۔

خاتون کا کہنا تھا کہ اصرار کے باوجود بابر اعظم نے ان سے نکاح نہیں کیا اور دعویٰ کیا کہ 2014 سے پہلے نوکری کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنا سیلون کھولا جس سے وہ کرکٹرز کے اخراجات برداشت کرتی رہیں۔

حامزہ نے دعویٰ کیا کہ 2014 میں جب بابر اعظم کا نام پاکستانی کرکٹ ٹیم میں آیا تو ان کا رویہ آہستہ آہستہ تبدیل ہونا شروع ہوگیا تھا، میں 2016 میں حاملہ ہوگئی تھی جب میں نے بابر اعظم کو بتایا تو سن کر ان کا رویہ بہت عجیب ہوگیا، مجھے مارا پیٹا اور میں ان کے اصرار پر اسقاط حمل پر مجبور ہو گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘بالآخر تنگ آکر 2017 میں، میں نے بابر اعظم کے خلاف پولیس رپورٹ کی اور شکایت دیکھنے والے افسر نے بابر اعظم کو پیش کرنے کا کہا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے لیکن اسی رات بابر اعظم نے اس افسر کے سامنے ہمارے مشروط صلح نامے پر دستخط کروائے تھے، جس میں شرط یہ طے کی گئی تھی کہ بابر مجھ سے شادی کرلیں گے’۔

بعد ازاں انہوں نے اندراج مقدمہ کے لیے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

حامزہ مختار نامی خاتون نے سی سی پی او لاہور کو درخواست میں فریق بناتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم بابر نے انہیں شادی کے بہانے 2012 سے مستقل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس دوران وہ حاملہ بھی ہوئیں اور بعد ازاں انہوں نے ملزم کی ایما پر اسقاط حمل بھی کروایا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ملزمان کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر کے اندراج کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے اس سلسلے میں کوئی شکایت درج نہ کی۔

درخواست میں تھانہ نصیر آباد پولیس کو بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں