تھر میں کوئلے کی مائننگ میں توسیع، منصوبے کی لاگت 627 ملین ڈالرز ہے

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بتایا گیا کہ تھر میں کوئلے کی مائننگ میں توسیع کی جارہی ہے، سنہ 2022 تک مزید 2 بجلی کے منصوبے کام شروع کردیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت تھر کول اینڈ انرجی بورڈ کا 22 واں اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں وزیر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ تھر کول ون 3.8 ایم ٹی پی اے کا منصوبہ ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کی لاگت 627 ملین ڈالرز ہے، تاحال 6 ملین ٹن کول نکالا گیا ہے، تھر کول 2 کی گنجائش 7.6 ایم ٹی پی اے (میٹرک ٹن سالانہ) ہے، منصوبے کی لاگت 862 ملین ڈالر ہے۔
بریفنگ کے مطابق ایس ای سی ایم فیز 3 میں 7.6 ایم ٹی پی اے سے بڑھا کر 13 ایم ٹی پی اے کول مائین کرے گا، مائننگ میں توسیع کی فزیبلٹی مکمل ہو چکی ہے۔ تھل نوول کے پاور پروجیکٹ پر بھی 30 فیصد کام ہوچکا ہے۔ دونوں منصوبے سال 2022 میں کام شروع کردیں گے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ تھر کول مائننگ اور پاور پراجیکٹس سندھ حکومت کی ان تھک محنت کا صلہ ہے، ہم نے صرف باتیں نہیں کیں بلکہ کام کر کے دکھایا، تھر کول منصوبے ملک کی توانائی کی ضروریات کا ضامن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مٹیاری میں گرڈ اسٹیشنز پر کام تیزی سے جاری ہے، تھر کول مائنز سے نیو چھور عمر کوٹ تک ریلوے لنک کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں