خفیہ ووٹنگ میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینا بے ایمانی ہو گی: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ خفیہ ووٹنگ میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینا بے ایمانی ہو گی۔

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے کی اور چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آئین کے محافظ ہیں۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے دلائل دیے کہ چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین، وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے انتخابات الیکشن کمیشن اورالیکشن ایکٹ میں واضح نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب بھی الیکشن کمیشن نہیں کراتا اور اراکین سینٹ کا انتخاب الیکشن ایکٹ کے تحت ہوتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ منتحب نمائندہ عوام اور پارٹی سربراہ کو جوابدہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رکن صوبائی اسمبلی کو خفیہ رائے شماری میں آزادانہ ووٹ کا حق دینا اہم سوال ہے، انتخابات میں لوگ امیدوار نہیں پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ خفیہ ووٹنگ میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینا بے ایمانی ہو گی۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ پارٹی ڈسپلن کی پابندی وزیراعظم اور بجٹ منظوری پر ہی ہے، جرمنی میں سیاسی جماعتیں طے کرتی ہیں کہ کون رکن اسمبلی بنے گا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جرمنی والا طریقہ کار پاکستان میں مخصوص نشستوں پر ہوتا ہے، شہری جس کو چاہے ووٹ دے سکتا ہے لیکن ایم پی اے نہیں ایسا نہیں کر سکتا۔

انہوں نے دلائل دیے کہ رکن صوبائی اسمبلی جس کو مرضی ووٹ دے تو پھر پارٹی کیسے چلے گی، پارٹی کا نمائندہ ڈسپلن کا بھی پابند ہوتا ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ اخلاقی بات کر رہے، عدالت میں معاملہ سیاسی ہے، اخلاقی اور سیاسی معاملے پرعدالت اپنی رائے کیوں دے اور حکومت عدالت سے کیوں رائے مانگ رہی ہے، پارلیمنٹ سے رجوع کرے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے پاس رائے لینے آئی ہے، عدالت میں سوال آرٹیکل 226 کے سینیٹ الیکشن پر اطلاق کا ہے اورعدالت جو بھی رائے دے گی اس پر فیصلہ پارلیمان نے کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کی بات ہے، اس لیے عدالت کو معاملہ سیاسی لگ رہا ہے، ارکان کی نااہلی سے زیادہ سیاسی معاملہ نہیں ہوسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریفرنس میں ایک سوال ہارس ٹریڈنگ، دوسرا انتخابات کی شفافیت کا ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 2006 میں طے پانے والی میثاق جمہوریت میں اوپن بیلٹ کا وعدہ کیا گیا تھا، 2010 میں اٹھارویں ترمیم آئی تو دونوں جماعتیں وہ وعدہ بھول گئیں لہٰذا عدالت آرٹیکل 226 کی تشریح کرے۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 226 کے مطابق وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے علاوہ تمام الیکشن خفیہ ووٹنگ سے ہوں گے، کوئی رکن صوبائی اسمبلی پارٹی کے خلاف ووٹ دینا چاہتا ہے تو سامنے آ کردے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 53 اور 60 میں ذکر نہیں کہ انتخابات خفیہ ہوں گے یا اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوں گے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آرٹیکل 226 کا اطلاق ہو تومخصوص نشستوں کے انتخابات ہو ہی نہیں سکتے، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن قانون کے تحت ہوتے ہیں۔

عدالت نے سماعت کل دن ایک بجے تک ملتوی کردی۔

اس سے قبل 11 جنوری کو سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ہمیں پورے آئینی ڈھانچے کو جانچنا پڑے گا، عدالت مجموعی طور پر جائزہ لےکر ہی فیصلہ کرے گی۔

عدالت نے اٹارنی جنرل برائے پاکستان اور دیگر ایڈووکیٹ جنرلز کو اپنی تحریری معروضات جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ نوٹس اخبارات میں بھی شائع کیا جائے تاکہ جو اس معاملے پر رائے دینا چاہے وہ دو ہفتوں میں تحریری معروضات عدالت میں جمع کرائے۔

بعد ازاں مذکورہ معاملے پر آج مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے وکیل کامران مرتضیٰ پیش ہو کر اپنا تحریری جواب داخل کرانے کی اجازت طلب کی تھی جس کی چیف جسٹس نے اجازت دے دی۔

سماعت کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر اور سابق چیئرمین ایوان بالا رضا ربانی نے کہا کہ بطور سینیٹر مقدمے میں فریق بننا چاہتا ہوں اور اس سلسلے میں ایک درخواست بھی دائر کی ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو فریق بننے کی اجازت ہے، تحریری جواب داخل کرائیں، اس سے قبل ایڈووکیٹ ملک قمر افضل اور مدثر حسن نے بھی مقدمے میں فریق بننے کی استدعا کی جسے عدالت نے قبول کرلیا تھا۔

اٹارنی جنرل نے تحریری معروضات جمع کرائیں اور کہا تھا کہ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے تحت قابل سماعت ہے، صدارتی ریفرنس آرٹیکل 226 کے اسکوپ سے متعلق ہے جبکہ سپریم کورٹ صدر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے، مزید یہ کہ عدالت عظمیٰ مستقبل کی قانون سازی سے متعلق بھی رائے دے سکتی ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 23 دسمبر کو صدر مملکت کی منظوری کے بعد سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا تھا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کی وزیرِ اعظم کی تجویز کی منظوری دے دی اور ریفرنس پر دستخط کیے تھے۔

عدالت عظمیٰ میں دائر ریفرنس میں صدر مملکت نے وزیر اعظم کی تجویز پر سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی تجویز مانگی ہے۔

ریفرنس میں مؤقف اپنایا گیا کہ آئینی ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرنے کے لیے رائے دی جائے۔

وفاقی حکومت نے ریفرنس میں کہا ہے کہ خفیہ انتخاب سے الیکشن کی شفافیت متاثر ہوتی ہے اس لیے سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے منعقد کرانے کا آئینی و قانونی راستہ نکالا جائے۔

یاد رہے کہ 15 دسمبر کو وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات فروری میں کروانے اور اوپن بیلٹ کے معاملے پر سپریم کورٹ کا مشاورتی دائرہ کار لاگو کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں پر وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ آئین کے تحت 10 فروری سے قبل سینیٹ انتخابات نہیں ہوسکتے۔

یاد رہے کہ پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے 104 اراکین میں سے 52 اراکین اپنی 6 سالہ سینیٹر کی مدت پوری ہونے کے بعد 11 مارچ کو ریٹائرڈ ہورہے ہیں۔

اگر اعداد و شمار کو دیکھیں تو مارچ میں جو 52 اراکین ریٹائر ہورہے ہیں، ان میں سے 34 کا تعلق اپوزیشن جماعتوں جبکہ 18 حکومتی بینچوں سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں