کٹھ پتلی، سلیکٹڈ راج کا خاتمہ اور جمہوریت بحال کریں گے: بلاول

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملاکنڈ کے ہر شہری کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ سلیگٹڈ چلا جائے جو ملک کا معاشی بحران میں دھکیل رہا ہے جبکہ کٹھ پتلی، سلیکٹڈ راج کا خاتمہ اور جمہوریت بحال کریں۔

ملاکنڈ کے بٹ خیلہ میں حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈٰی ایم) کے جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ کے عوام نے آج پاکستان کو اپنا فیصلہ سنا دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے سارے دھوکے باز ہیں جنہیں حکومت چلانی نہیں آتی لیکن تبدیلی کا نعرہ لگا کر عوام کو دھوکا دیا۔

انہوں نے ملاکنڈ کے عوام کو گواہ بنا کر کہا کہ ’کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ راج کا خاتمہ کریں گے اور حقیقی جمہوریت بحال کریں گے‘۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہمیں یاد ہے جب ملاکنڈ کے نوجوان دہشت گردوں کا مقابلہ کررہے تھے جب کون کون آپ کی حمایت اور مخالفت میں کھڑے تھے‘۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک عمران خان تب بھی تھا جو دہشت گردوں کا نام لینے سے گھبراتا تھا اور وہ دہشت گردوں کا وکیل بنا ہوا تھا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ملاکنڈ کے نوجوانوں نے پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے وقت وزیر اعظم عمران خان اسلام آباد میں ناچ رہا تھا جب ہمارے بچے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہورہے تھے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’اس حکومت میں دہشت گردوں کو رہائی ملی، افسوس کہ ہم شہید ہونے والے اے پی ایس کے بچوں کو ناصاف نہیں دے سکے‘۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مچھ کے لواحقین کو ملیک میلر قرار دے دیا، یہ کس قسم کا انصاف ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج تک کسی شہید کو انصاف نہیں دلا سکے، دہشت گردوں کو قانون کے دائرے میں نہیں لاسکے، ہم اپنے شہیدیوں اور ان کے لواحقین کے آگے شرمندہ ہیں کہ یہ کس قسم کا انصاف ہے جس کی تکرار وزیر اعظم کرتا رہتا ہے‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں