ہزارہ برداری سے متعلق وزیرا عظم عمران خان کا بیان انسانیت سے عاری ہے: مریم نواز

ہزارہ برداری سے متعلق وزیرا عظم عمران خان کا بیان انسانیت سے عاری ہے: مریم نواز

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ہزارہ برداری سے متعلق وزیرا عظم عمران خان کا بیان انسانیت سے عاری ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ مجھے پریس کانفرنس نہیں کرنی تھی لیکن جب ہزارہ برداری سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کا بیان سنا کہ مجھے بلیک میل مت کریں، آپ اپنے مردوں ک دفنائیں میں آپ کے پاس واپس آؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ ‘عمران خان کے اس بیان کے بعد میں قوم سے بات کیے بغیر نہیں رہ سکی’۔

مریم نواز نے وزیر اعٖظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘آپ جانتے ہیں کہ ہزارہ برداری کمزور طبقہ ہے جسے سیکیورٹی کی ضرورت ہے لیکن آپ اس میں ناکام اور فیل ہوئے’۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کی اس نااہلی کی و جہ سے وہاں پر دہشت گردی کا واقعہ ہوا اور کان کنوں کے گلے کاٹے گئے۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ہزارہ برداری اپنے مردوں کو زندہ کرنے کا مطالبہ نہیں کررہے بلکہ رحم کی امید کررہے ہیں، وہ آپ سے صرف یہ کہہ رہے تھے کہ آپ آکر شفقت کا ہاتھ رکھ دیں۔

مریم نواز نے کہا کہ ہزارہ برداری ہمدردی کے دو بول چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم صرف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیرا عظم یہاں آکر یقین دلائیں کہ اب دوبارہ ایسے واقعات نہیں ہوں گے’۔

پریس کانفرنس کے دوران مریم نواز نے ہزارہ برادری کی غمزدہ خواتین کی تصاویر بھی دکھائیں اور کہا کہ ‘کیا یہ بلیک میلر ہیں؟’

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا فرض ہے کہ وہ ہزارہ برداری کے غم میں برابر کے شریک ہوں۔

مریم نواز نے کہا کہ ہزارہ برداری کو بلیک میلر کہہ کر جس غرور، تکبر اور سفاکی پر مبنی بیان دیا ہے اس کے بعد ہم صرف آپ کے لیے دعا ہی کرسکتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ ‘یہ فرعونیت ہے’۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ صورتحال آپ کے گھر میں پیش آتی تو کیا آپ انہیں بھی بلیک میلرز کہتے۔

مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘مردہ فن کیے جانے کے بعد آپ کا دورہ کوئی معنیٰ نہیں رکھتا، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر تکبر اور ہٹ دھرمی کا کوئی چہرہ ہوتا تو وہ عمران خان جیسا ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کلیئرنس ہمیں بھی نہیں ملی تھی لیکن ہم وہاں گئے اور جو کرسکے وہ کیا لیکن میں اور قوم سوال کرتے ہیں کہ 22 کروڑ افراد کی زندگی سے زیادہ آپ کی زندگی اہم اور قیمتی ہے’۔

مریم نواز نے کہا کہ اس کا جواب آپ کو دنیا اور آخرت میں دینا پڑے گا اور آج بتایا گیا کہ سیکیورٹی خدشات نہیں مگر عمران خان کی انا اور ضد تھی۔

انہوں نے عمران کان کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘پھر آپ کہتے ہیں کہ فوج سب جانتی ہے، کیا فوج جانتی ہے کہ آپ کتنے بزدل ہیں، آپ کی نااہلی سے 22 کروڑ عوام متاثر ہورہے ہیں’۔

مریم نواز نے کہا کہ ‘کیا سلیکٹرز جانتے ہیں کہ ان کے انتخاب کی وجہ سے برادر دوست ناراض ہوئے، خارجہ پالیسی برباد کردی، گورننس کا ستیانس کیا اور اب مظلموں کو بلیک میلرز کا لیبل دے کر انسانیت کی توہین کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں سلیکٹرز سے بھی سوال کرتی ہوں کہ کیا 22 کروڑ عوام میں یہ ہی ایک سوغات ملی تھی’۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ‘موجودہ حکومت کی پے در پے غلطیوں پر عوام اب سلیکٹرز سے جواب طلب کررہے ہیں’۔

آخر میں انہوں نے ہزارہ برداری سے درخواست کی کہ وہ اپنے پیاروں کو دفنادیں کیونکہ جس انسان سے آپ امید لگائے بیٹھے ہیں اس کے سینے میں دل نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جسے کوئٹہ جانے کی اجازت نہ ملی وہ خود این آر او کیسے دے سکتا ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ہم کوئٹہ میں ہزارہ برداری سے اظہار یکجہتی کے لیے ان سے ملے اور ان کے دھرنے میں شامل ہوئے۔

مریم نواز نے کہا کہ اگر اس معاملے پر سیاست پر کرتے تو وزیراعظم عمران خان کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملتی اور اگر آپ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہیں تو ہم تنقید کا حق رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہاں ہر خاندان بہت بڑی کہانی ہے اور وہاں ملاقات کے دوران جو مناظر دیکھے اس پر میرا دل دہل گیا۔

مریم نواز نے کہا کہ میں اپنے جذبات بیان کرنے سے قاصر ہوں کیونکہ کچھ متاثرہ خواتین نے کہا کہ اب ان کے گھر میں کوئی مرد نہیں جو جنازوں کو کاندھا دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں