باکسنگ جمنیزیم پراجیکٹ انتظامیہ کی سست روی کا شکار

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کا باکسنگ جمنیزیم سترہ سال بعد بھی پایہ تکمیل کو نہ پہنچا۔جمنیزیم کا کام 70 فیصد مکمل ہونے کے باوجود مکمل تکمیل کے لیے مزید دو سال انتظار کرنا پڑے گا اور یوں یہ منصوبہ 19 سال میں مکمل ہو گا۔

ملٹی پرپز باکسنگ جمنیزیم پراجیکٹ انتظامیہ کی سست روی اور عدم توجہ کے باعث لٹک گیا۔

قذافی اسٹیڈیم کے عقب میں باکسنگ ایرینا کی تعمیر 5 نومبر 2004 میں شروع ہوئی اور 14اپریل 2005 میں اراضی تنازع کے باعث کام روک دیا گیا.

2010 میں اٹھارویں ترمیم کے بعد 20 وفاقی سکیمیں تحلیل ہوئیں تو یہ پراجیکٹ بھی کھٹائی میں پڑ گیا، دستاویزات کے مطابق باکسنگ جمنیزیم پراجیکٹ 30 جون 2011 کو پنجاب حکومت کو سونپا گیا۔

اسی دوران کنٹریکٹر نے ایک کروڑ تین لاکھ 26 ہزار کی عدام ادائیگی پر عدالت سے رجوع بھی کیا، 2017 میں عدالت نے ثالث مقرر کرنے کے احکامات جاری کیے۔

ڈی جی سپورٹس بورڈ پنجاب عدنان اولکھ نے بتایا کہ منصوبے کو گزشتہ ادوار میں نظرانداز کیا گیا مگر اب ہم جلد اسے مکمل کرلیں گے۔

عدنان ارشد اولکھ کا مزید کہنا تھا کہ ملٹی پرپز جمنیزیم منصوبے کو ایک سال قبل ٹیک آپ کیا گیا ہے، اس سے پہلے اسے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس بی پی اور پی ایس بی کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں، منصوبے کی ٹیسٹنگ کرواچکے ہیں ایک دو سال میں منصوبہ مکمل کریں گے۔

قومی باکسرز نے بھی پراجیکٹ کو جلد مکمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

ایشین باکسنگ فیڈریشن چمپئن عثمان وزیر نے کہا کہ اس پراجیکٹ کو جلد از جلد مکمل ہونا چاہیے، پاکستان میں باکسنگ ایرنیہ ویسے ہی بہت کم ہے۔

منصوبے کیلیے حکومتی خزانے سے تین کروڑ 95 لاکھ 95 ہزار کے فنڈز منظور کیے گئے، اب تک دو کروڑ 54 لاکھ 30 ہزار خرچ ہو چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں