کراچی مشکوک پولیس مقابلہ، مقتول سلطان نذیر کے لواحقین کا پولیس کے خلاف احتجاج

کراچی مشکوک پولیس مقابلہ، مقتول سلطان نذیر کے لواحقین کا پولیس کے خلاف احتجاج

شہر قائد میں رواں سال کا پہلا مشکوک پولیس مقابلہ سامنے آ گیا۔ لواحقین نے تھانے کے باہر احتجاج کیا۔کراچی کے علاقے سائٹ ایریا میں اتوار کو مبینہ پولیس مقابلے میں سلطان نذیر کی ہلاکت کا معاملہ مشکوک ہو گیا۔ مقتول کے لواحقین نے پولیس کے خلاف سائٹ اے تھانے کے باہر احتجاج کیا۔

تھانے کے باہر احتجاج کرنے والے مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے سلطان نذیر سے مسروقہ موٹر سائیکل برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا جبکہ سلطان نذیرآن لائن بائیک سروس پر سفر کرتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مقتول سلطان نذیر کو موٹر سائیکل چلانا نہیں آتا تھا اور واقعے کے روز بھی وہ اسی سروس کے ذریعے رشتے دار کے گھر جا رہا تھا جبکہ پولیس تحقیقات کے لیے آن لائن ریکارڈ بھی چیک کر سکتی ہے۔

لواحقین نے ایس ایس پی کیماڑی تحقیقاتی کمیٹی پرعدم اعتماد کا اظہار کر دیا اُن کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی میں ہمارے عمائدین کو بھی شامل کیا جائے۔

واقعہ کا مقدمہ قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقتول کے کزن سلیم اللہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں 2 پولیس اہلکاروں شبیر احمد اور جہانگیر کو نامزد کیا گیا ہے۔

مقتول کا تعلق گلگت بلتستان کے علاقہ ھنزہ سے ہے، ادھر گلگت بلتستان کے وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے  گلگت بلتستان کے طالب علم نذیر سلطان کے پولیس قتل کا نوٹس اور سندھ حکومت سے رابطہ کیا۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان  کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ کراچی اور دیگر شہروں میں بسنے والے ہمارے اسمعیلی برادری کے طالب علم انتہائی پرامن اور منفی سرگرمیوں سے دور رہنے والے ہیں۔

خالد خورشید نے کہا کراچی پولیس کی جانب سے مقتول نوجوان کو مبینہ طور پر دہشت گرد قرار دینے والا بیان قابل مزمت ہے اور اس کی شفاف تحقیقات ضروری ہے۔”

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا مزید کہنا تھا کہ قتل ہونے والے طالب علم کے لواحقین سے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ اس کیس کی شفاف انکوائری کروایں گے اور صوبائی حکومت اس ضمن میں ہر طرح کا تعاون کرے گی۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں