شہر قائد میں کار لفٹرز نے سرکاری افسر کو گاڑی لے اڑے

شہر قائد میں کار لفٹرز نے سرکاری افسر کو گاڑی لے اڑے

شہر قائد میں کار لفٹرز نے سرکاری افسر کو گاڑی سے محروم کردیا، سال دوہزار اکیس میں سرکاری گاڑی چوری ہونے کی یہ پہلی واردات ہے۔

نئے سال کے دوسرے روز ہی شہر میں سرکاری گاڑیاں چوروں کے نشانے پر آ گئی ہیں جب کہ پولیس ان وارداتوں کو روکنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

تازہ واقعہ ضلع وسطی کے علاقے جوہرآباد میں پیش آیا، جہاں ملزمان سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ افسر کی گاڑی لے اڑے، سرکاری افسر یوسف نے تھانےمیں شکایت درج کرادی ہے۔

ایس ایس پی سینٹرل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چوری ہونےوالی گاڑی ان کی ذاتی ملکیت ہے، جس کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔

دوسری جانب اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل کراچی (اے وی ایل سی) نے شہر میں کار چوری میں ملوث گروہوں کو گرفت میں لینے کے لئے باقاعدہ کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

ایس ایس پی اے وی ایل سی عارف راؤ نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ پہلے مرحلے میں موٹر سائیکل اور گاڑیوں کا سامان بیچنے والے کباڑیوں کی رجسٹریشن شروع کردی گئی ہے، کباڑیوں اور استعمال شدہ اسپیئر پارٹس بیچنے والوں کے کوائف بھی جمع کئے جارہے ہیں، کارروائی کے دوران دکانداروں اور کباڑیوں کے فنگر پرنٹس کو بھی ریکارڈ کاحصہ بنایا جارہا ہے۔

ایس ایس پی عارف راؤ کا مزید کہنا تھا کہ ان افراد کے مکمل کوائف جمع کرنے سے جرائم پیشہ افراد کے رابطے تلاش کرنے میں مدد ملے گی، واضح رہے کہ کراچی میں پرائیویٹ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ سرکاری گاڑیوں کی چوری کی وارداتیں بھی کی جارہی ہیں، گذشتہ سال درجنوں پرائیویٹ اور سرکاری گاڑیاں چوری کی جا چکی ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران شہر کراچی میں 25 سرکاری گاڑیاں چوری اور 39 گاڑیاں چھینی گئیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان گاڑیوں کی مالیت تقریباً 10 کروڑ روپے بنتی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں