احتساب کے نام پر انتقام کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، مولانا عبدالغفور حیدری

احتساب کے نام پر انتقام کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، مولانا عبدالغفور حیدری

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنماعبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ ہم ٹکڑے ٹکڑے ہوجا لیکن نیب کے سامنے پیش نہیں ہونگے۔ مولانا فضل الرحمان کی زندگی کھلی کتاب ہے۔صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے نیب کی کارروائیوں پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔مولاناعبدالغفور حیدری نے اظہار خیال…

ادارے نے بغیر ثبوت کے سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالی ہیں۔ پانامہ کے ڈرامے سے بات اقامہ پر ختم ہوئی۔ اقامہ بھی کوئی جرم ہوتا ہے؟

انہوں نے کہا نوازشریف وہاں کاروبار کرتے تھے اس لیے ان کے پاس اقامہ تھا۔ آصف زرادری صدر رہے ہیں ان کو گرفتار کیا گیا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ نیب کی طرف سے یہی کچھ چلتا رہو تو سیاسی فضا خراب ہوگی۔

کوئی نہیں کہتا کہ مجرم کے خلاف کارروائی نہ ہو، سپر کورٹ کے ججز نے بھی نیب کی کارروائی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

سینیٹر راجہ ظفرالحق نے کہا نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں۔ لوگوں کو بدنام کیا جا رہا ہے، جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا مخصوص لوگوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جس کے پیچھے ایک سوچ ہے۔ معاملے کو ایوان کی کسی کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔

ن لیگی سینیٹر نے کہا خواجہ آصف کو ایک اجلاس سے بلا کر گرفتار کیا گیا، کہا گیا کہ کچھ لوگ باہر آپ کو بلا رہے ہیں اور گرفتار کر لیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں