سینٹ کے انتخابات خفیہ رائے شماری، لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر

سینٹ کے انتخابات خفیہ رائے شماری، لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر

سینٹ کے انتخابات خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن بیلٹ پر کروانے کیلئے لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔لاہور ہائیکورٹ درخواست شہری منیر احمد نے ایڈوکیٹ اظہر صدیق کی وساطت سے دائر کی۔ دائر درخواست میں وفاقی حکومت، چیرمین سینٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، الیکشن کمشن آف پاکستان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں…

درخواست گزار کے مطابق سینٹ الیکشن میں دھاندلی کا الزام ہر دور میں لگتا رہا ہے اور دھاندلی ہوتی رہی جبکہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 122 آئین پاکستان کے آرٹیکل 22 اور 226 کے متصادم ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت الیکشن ایکٹ (6)122 کو کلعدم اور سینٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے زریعے کروانے کا حکم دے۔

خیال رہے کہ حکومت نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلیٹ کے ذریعے کرانے کے متعلق صدراتی ریفرنس سپریم کورٹ میں جمع کرا رکھا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ 4 جنوری کوریفرنس پر سماعت کرے گا۔

صدارتی ریفرنس پر سماعت کرنے والا بینچ چیف جسٹس گلزار احمد ، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس یحیی آفریدی پر مشتمل ہو گا۔

حکومت نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ یا شو آف ہینڈز کے ذریعے کرانے کے لئے سپریم کورٹ سے رائے طلب کی ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر صدارتی ریفرنس میں مؤقف اپنایا گیا کہ سینیٹ انتخابات آئین کے تحت نہیں کرائے جاتے۔

سینیٹ کا انتخاب الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کرایا جاتا ہے۔ سینٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت ہو سکتا ہے۔ حکومت نے مؤقف اپنایا کہ اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن میں شفافیت آ ئے گی۔

ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ خفیہ ووٹنگ کی وجہ سے سینیٹ الیکشن کے بعد شفافیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں