آزاد کشمیر کے وزیر اعظم نے سلیکٹڈ کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا: مریم نواز

آزاد کشمیر کے وزیر اعظم نے سلیکٹڈ کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا: مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم نے سلیکٹڈ کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیا، وہ نہ نواز شریف کے نظریے سے پیچھے ہٹے اور نہ کشمیر سے ان کی تصویر اتاری۔

اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے یوم تاسیس کے موقع ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں راجا فاروق حیدر کی دلیری کی معترف ہوں، میں نواز شریف اور راجا فاروق حیدر سے دلیری سیکھتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے، گلگت بلستان میں حکومت تھی اور آزاد کشمیر میں حکومت ہے اور یہاں کے لیڈر نے سلیکٹڈ کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیا اور نہ نواز شریف کے نظریے سے پیچھے ہٹے اور نہ کشمیر سے اس کی تصویر اتاری۔

دوران خطاب انہوں نے کہا کہ میں مقبوضہ کشمیر کے بہن، بھائی، بزرگوں اور بیٹیوں کے لیے بھی پیغام لائی ہوں کہ نواز شریف اور مریم نواز آپ کے ساتھ ہیں اور جب آپ پر ظلم ہوتا ہے تو نواز شریف اور مریم نواز کا دل لہولہان ہوتا ہے، جب آپ کے بیٹوں کی شہادت ہوتی ہے تو زخم ہماری روح پر لگتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب عمران خان کی نالائقی اور نااہلی کی وجہ سے مودی کی جھولی میں کشمیر جاکر گرتا ہے اور پاکستان اس نالائق اعظم کی وجہ سے کشمیر کا مقدمہ ہارجاتا ہے تو زخم پورے پاکستان کے دلوں پر لگتا ہے‘۔

مریم نواز نے کہا کہ پاکستان میں جب ایک کمزور وزیر اعظم عوام کی طاقت سے نہیں آتا، جو آپ کے ووٹ سے نہیں آتا اور جب ایک کمزور حکومت ہوتی ہے تو بھارت جیسا دشمن پاکستان پر وار کرتا ہے، اس نے پاکستان کی شہ رگ پر وار کیا اور کامیاب ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب اپکستان میں آپ کے ووٹوں سے آنے والا عوامی وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت ہوتی ہے تو مودی جیسا خود چل کر پاکستان آتا ہے، عوامی وزیر اعظم اور جعلی وزیر اعظم میں یہ فرق ہے، اسی لیے کہتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دینا بہت ضروری ہے کیونکہ اگر ووٹ کو عزت نہیں ملتی تو پاکستان کی شہ رگ پر وار ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کو فخر ہے کہ ہمارا تعلق پاکستان مسلم لیگ(ن) سے ہے جو نہ صرف پاکستان کی خالق جماعت ہے بلکہ اس جماعت نے نواز شریف کے ہاتھوں پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنایا اور پاکستان اور کشمیر کے کے کونے کونے کو ترقی سے سجایا اور سنوارا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی جدوجہد اور نظریے نے پاکستان کے کونے کونے کو وہ شعور دے دیا ہے کہ نواز شریف کی آواز بند ہے لیکن ہمارے مخالف بھی نواز شریف کی زبان بول رہے ہیں۔

مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر نے کہا کہ نواز شریف پر انہوں نے کیا کیا الزام نہیں لگائے، ریاستی دہشت گردی کا کیا کیا حربہ نہیں آزمایا، پاکستان کی ایک ایک پائی کو اپنی امانت مسجھنے والے پر اس نے کرپشن کا الزام لگایا، غداری کا الزام لگایا، اللہ اور رسولﷺ سے محبر کرنے والے نواز شریف پر اس نے مذہبی فتوے لگوائے لیکن پاکستان میں آج کسی نے ان الزامات کو نہیں مانا اور اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف پر تو ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا اور انہوں نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑا اور آج ان پر نہ صرف اک ایک الزام ثابت ہو رہا ہے بلکہ یہ ہر اس جرم کے مرتب ہو رہے ہیں جس کا کبھی انہوں نے نواز شریف پر الزام لگایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو اللہ تعالیٰ سچا ثابت کررہا ہے اور ایک ایک بات پر سلیکٹڈ عمران خان اور اس کے سلیکٹرز ناکامی اور شرمندگی کا سامنا کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی ریاست کے اوپر ریاست کی بات کی اور جب کراچی میں میرے کمرے پر حملے ہوا، آئی جی کو اغوا کیا گیا اور پوری پولیس فورس چھٹی پر چلی گئی تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی، عمران خان کو اس واقعے کا علم تک نہیں تھا، اس کو بس ایک ڈمی بنا کر بٹھایا ہوا ہے اور انہوں نے اس سے پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا لہٰذا نواز شریف کی ریاست کے اوپر کی ریاست کی بات تو ان کے مخالفین نے خود ہی درست ثابت کردی۔

مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف نے کہا کہ جب عوامی وزیراعظم مقبول ہو جاتا ہے، اس کے پیچھے پورا پاکستان اور کشمیر کھڑا ہوتا ہے اور خدمت کر کے اگلا الیکشن بھی جیت رہا ہوتا ہے تو ان سے برداشت نہیں ہوتا، یہ پھر پاناما کی رٹ لگاتے ہیں اور اس میں سے کیا نکلتا ہے، شرم کرو ہ ایک منتخب وزیراعظم کو تم اقامہ جیسے الزام پر گھر بھیجتے ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں