انسداد دہشت گردی عدالت نے 6 سال بعد ایئر پورٹ حملہ کیس کا فیصلہ جاری کر دیا

انسداد دہشت گردی عدالت نے 6 سال بعد ایئر پورٹ حملہ کیس کا فیصلہ جاری کر دیا

انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے 6 سال بعد ایئر پورٹ حملہ کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے ملزمان کو بری کر دیا۔

کراچی ایئر پورٹ حملہ کیس میں پراسیکیوشن کالعدم تنظیم کے سہولت کاروں پر جرم ثابت کرنے میں ناکام رہی، عدالت نے پی ایم ایل سندھ کے کنوینر سرمد صدیقی سمیت 4 ملزمان کو بری کر دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ ملزمان کسی اور مقدمے میں نامزد نہیں ہوں تو انھیں رہا کر دیا جائے، بری ہونے والے دیگر ملزمان میں ندیم عرف برگر، آصف ظہیر اور عبدالراشد شامل ہیں۔

دوسری طرف عدالت نے ملا فضل اللہ اور ترجمان سمیت 8 مفرور ملزمان کے تاحیات وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

کراچی پولیس کے بیان کے مطابق 8 جون 2014 کو 10 دہشت گردوں نے ایئر پورٹ پر حملہ کیا تھا، جس میں سیکورٹی اہل کار اور ایئر پورٹ ملازمین سمیت 27 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

جن ملزمان پر مقدمہ چل رہا تھا انھوں نے پولیس کے بیان کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کو سہولت فراہم کی تھی، پولیس کا عدالت میں کہنا تھا کہ مذکورہ ملزمان نے دہشت گردوں کو لاجسٹک سہولت سمیت اسلحہ اور فنڈ فراہم کیا تھا۔

یاد رہے کہ 2014 میں دہشت گردوں نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں پر تعینات ایئر پورٹ سیکیورٹی فورسز کے اہل کاروں سمیت 27 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ وہاں پر کھڑے تین طیاروں کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔ سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں 10 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے جن کے بارے میں بتایا گیا کہ ان میں سے 8 غیر ملکی تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں