شہزاد اکبر آپ مشیر احتساب ہیں، احتساب عدالتوں کی حالت بھی جاکر دیکھیں: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

شہزاد اکبر آپ مشیر احتساب ہیں، احتساب عدالتوں کی حالت بھی جاکر دیکھیں: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیےکہ آپ مشیر احتساب بھی ہیں،احتساب عدالتوں کی حالت بھی جاکر دیکھیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد میں بڑھتے جرائم، کچہری کے مسائل، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور نیول فارمز سے متعلق درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کی۔

مشیر داخلہ مرزا شہزاد اکبر عدالتی حکم پر عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور یقین دہانی کرائی کہ خصوصی عدالتوں کےکام کا ماحول بہتر بنانےکی ہر ممکن کوشش کی جائےگی۔

انہوں نے کہا کہ اس عدالت کا ہی فیصلہ ہےکہ ایڈوائزرز کے پاس ایگزیکٹو اتھارٹی نہیں، صرف مشورہ ہی دے سکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ احتساب کے مشیر بھی ہیں، احتساب عدالتوں پر دباؤ بہت ہے مگرججز کے پاس ڈکٹیشن دینے کے لیے ا سٹاف تک نہیں، سپریم کورٹ روزانہ کی بنیاد پر کیسز کی سماعت کا کہہ چکی ہے، ججز دن رات کام کرنے کو تیار ہیں، ایگزیکٹو تعاون کرے ۔

عدالت نے کہا کہ آپ عدالتوں کی تعداد بے شک نہ بڑھائیں ان کی ورکنگ کنڈیشن بہتر بنائیں، آپ احتساب عدالتوں کا وزٹ کرکے وزیراعظم کو بریفنگ دیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اسلام آبادکے 1400اسکوائر میل کے علاقہ میں قانون کی حکمرانی نہیں،یہاں سستا اور فوری انصاف بھی دستیاب نہیں، گورننس سسٹم کرپٹ ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ججز کے اسٹینو وزارت قانون کے ماتحت آتے ہیں، مرضی سے چھٹی پر چلے جاتے ہیں، ایک جج نے کہا وہ ٹائپنگ تک خود کرتے ہیں، ڈسٹرکٹ کورٹس پرائیویٹ کمرشل بلڈنگ میں ہیں، انہیں کرایہ کی ادائیگی نہیں ہو رہی، یہ معاملہ بھی دیکھیں اور بتائیں خصوصی عدالتوں کے مسائل کیسے اور کب حل ہوں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں