نیب کی کارکردگی 2020 میں کیسی رہی

نیب کی کارکردگی 2020 میں کیسی رہی

قومی احتساب بیورو نے2020 کے دوران نواز شریف، شہباز شریف، آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر کے خلاف کُل 90 نئے کیس دائر کیے۔نیب کے 70 کیسوں کا فیصلہ ہوا، 14 ملزمان کو احتساب عدالتوں سے سزا دلوائی گئی، شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا اور آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔

قومی احتساب بیورو نے 256 انکوائریوں اور 90 انویسٹی گیشنز کی منظوری دی۔ رواں سال کے دوران 81 انکوائریوں کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کیا گیا۔

سال2020 میں 167 انکوائریاں عدم شواہد کی بنیاد پر بند کردی گئیں جن میں شہباز شریف، پرویز الہٰی اور احد چیمہ کے نام سرفہرست ہیں۔

نیب کی جیل سے47 ملزمان بری بھی ہوئے جن میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی شامل ہیں۔

نیب نے شہباز شریف کو لاہور ہائی سے ضمانت خارج ہونے پر گرفتار کیا۔ اسی سال سابق گورنر گلگت بلتستان کے بیٹے پرنس سلیم نے گرفتار ہونے کے بعد پلی بارگین کی۔

نیب نے جعلی الاٹمنٹ اور رشوت کے کیس میں ملزم شفقت ممتاز اور مضاربہ اسیکنڈل میں نامزد دو ملزمان کو بھی گرفتار کیا۔

بلاول بھٹو ، مراد علی شاہ ، اکرم درانی ، رانا ثنا اللہ اور خواجہ آصف کو نیب آفس طلب کیا گیا اور سوالنامہ بھیجا گیا۔

سال کے آخر میں نیب اور سلیم مانڈوی والا کے درمیان تنازعہ بھی سامنے آیا۔ نیب کی جانب سے ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کے مبینہ بے نامی دار کے شئیرز منجمند کئے گئے تو سلیم مانڈوی والا نے نیب کیخلاف دو بار پریس کانفرنس کی جبکہ چئرمین نیب کو سینیٹ میں طلب کرنے کا عندیہ بھی دے رکھا ہے۔

رواں سال چیئرمین نیب نے آٹھ ارب کی مشکوک ٹرانزیکشن کیس میں سابق صدر آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

پانچ ملزمان نے پلی بارگین کی جس میں جعلی اکاؤنٹ کے چھ کیسز میں نو ارب پانچ کروڑ کی سب سے بڑی پلی بارگین شامل ہے۔

علاوہ ازیں لکی علی کیس میں ایک ارب 95 کروڑ اور منظور قادر کیس میں ایک ارب مالیت کی زمین سندھ حکومت کے حوالے کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں