چیلنج کرتا ہوں اپوزیشن لانگ مارچ کرکے ہفتہ گزاریں تو استعفے کا سوچنا شروع کروں گا: وزیراعظم

چیلنج کرتا ہوں اپوزیشن لانگ مارچ کرکے ہفتہ گزاریں تو استعفے کا سوچنا شروع کروں گا: وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کے مطالبات کو ذاتی مفادات کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ لانگ مارچ کر کے یہاں آکر ایک ہفتہ گزار گئے تو استعفے کا سوچوں گا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے بجلی کے حوالے سے اندازہ نہیں تھا کیونکہ بجلی لاگت 17 روپے کے قریب ہے اور ہم عوام کو 14 روپے پر فراہم کر رہے ہیں جس سے گردشی قرضہ بڑھتا جا رہا ہے۔

عوام کو امیدیں دلانے سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘لوگوں نے مجھے یہ نہیں کہا تھا کہ جس دن آپ آئیں گے ایک سوئچ آن کریں گے ملک ٹھیک ہوجائے گا اور آتے ہی تبدیلی آگئی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جب وعدے کرتے ہیں تو لوگوں کو 5 سال کا وقت دیتے ہیں تب آپ جج کرتے ہیں اور پھر اگلے انتخابات میں ووٹ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘تبدیلی یہ آئی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ جو بڑے بڑے نام تھے جن پر کوئی ہاتھ نہیں لگاسکتا تھا وہ جیلوں کے چکر لگا رہے ہیں’۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے 31 جنوری تک استعفیٰ دینے کی ڈیڈلائن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘اگر وہ لانگ مارچ کریں تو پتہ چل جائے گا کہ استعفیٰ مجھے دینا ہے یا ان کودینا پڑے گا اور رہی کہی کسر لانگ مارچ میں پوری ہوجائے گی’۔

عمران خان نے کہا کہ ‘میں چلنج کرتا ہوں کہ یہ وہاں ہفتہ گزار گئے تو تب میں واقعی استعفے کا سوچنا شروع کردوں گا، وہ اس لیے ہفتہ نہیں گزاریں گے کیونکہ ان کے پاس لوگ چل کے نہیں آئیں گے، ہمارے پاس عوام تھے اس لیے ہم نے 126 دن گزار سکے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘عوام کو سمجھنا چاہیے یہ خود کو ڈیموکریٹس کہہ رہے ہیں اور پاکستان کی فوج کو اپیل کر رہے ہیں کہ جمہوری حکومت کو ہٹادیں، اس پر آئین کا آرٹیکل 6 لگتا ہے’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘اگر آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف مجھے نہیں ہٹاتے ہیں تو فوج سے کہہ رہے ہیں مجھے ہٹا دیں، جس طرح کی باتیں جلسوں میں کر رہے ہیں یہ پریشان ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کی فوج حکومت کا ایک ادارہ ہے، وہ میرے نیچے ہیں، پاکستان کی فوج میرے اوپر نہیں بیٹھی بلکہ میرے نیچے ہے اور میں منتخب وزیراعظم ہوں اور یہ کہنا کہ میرے نیچے ایک ادارہ مجھے گرا دے تو دنیا کی کسی جمہوریت میں یہ کہا گیا ہے’۔

عمران نے کہا کہ ابھی تک جو چیز میری حکومت نے کرنا چاہا اور میرا منشور ہے اس پر پاکستان کی فوج اور پاکستان کے سارے ادارے میرے ساتھ کھڑے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے دو سال میں پاکستان کو جس مشکل سے نکالا ہے، اگر پاکستانی فوج اور ادارے میرے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو میں اکیلا کیا کرسکتا تھا’۔

وزیراعظم نے نواز شریف کے حوالے سے کہا کہ ‘ہم نے دیکھا ہے کہ پاکستان کی فوج نے اس کو کیسے بنایا، نواز شریف کو پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف کھڑا کیا گیا، جنرل ضیا نے پی پی پی سے ڈر کر ان کو تیار کیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘جنرل ضیا الحق نے 1988 میں اپنے چھوٹے بیٹے انوار کے ذریعے پیغام بھیجا کہ میں پاکستان میں وزارت دینا چاہتا ہوں کیونکہ ہمارے پاس کوئی نہیں ہے’۔

نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ملک کے اندر کرپشن شروع نواز شریف نے کی، سارے جوہر ٹاؤن کے پلاٹس دے کر پارٹی بنائی، پیسے دے کر پارٹی بنائی اور اسٹبلشمنٹ ان کےساتھ تھی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جنرل باجوہ کی تعریف کرتا ہوں، میں پرانے آرمی چیفس کو بھی جانتا تھا، اس طرح کسی آرمی چیف کو نشانہ بنانے سے فوج کے اندر ایک ردعمل آتا ہے’۔

عمران خان نے کہا کہ ‘جنرل باجوہ ایک سلجھے ہوئے آدمی ہیں، ان کے اندرایک ٹھہراؤ ہے، اس لیے وہ برداشت کر رہے ہیں، کوئی اور فوج میں ہوتا تو بڑا ردعمل آنا تھا، اس وقت اندر بہت غصہ ہے لیکن مجھے پتہ ہے کہ وہ برداشت کر رہے ہیں کیونکہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں’۔

اپوزیشن پر الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘جنرل فیض اور ان کو نشانہ بنانے رہے اور فوج کو بلیک میل کر رہے ہیں کہ کسی طرح جمہوری حکومت کو گرانے کے لیے دباؤ ڈالیں’۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘ہم چاہ رہے ہیں انہیں ڈی پورٹ کروائیں، ڈی پورٹ تو ہم ابھی کرواسکتے ہیں، حوالگی ہم نے کروانی ہے لیکن اس کا عمل بہت لمبا ہے کتنی دیر لگے گی کچھ نہیں کہہ سکتا’۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم جو کرنا چاہتی ہے اس کے لیے میں تیار ہوں، پیش گوئی کر رہا ہوں جو بھی کریں گے نقصان ان کا ہونا ہے، مینار پاکستان کے جلسے سے ان کو نقصان ہوا ہے لیکن جتنے بھی لوگ تھے یہ فلاپ شو تھا۔

استعفوں کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ میں ان کو دعوت دیتا ہوں کہ کل نہیں آج استعفے دیں، ہمارا فائدہ کروائیں گے، ان کی پارٹی کے خلاف اکثریت استعفے دیں گے، اپنی پارٹی سے استعفے کا مطالبہ کریں گے تو ان کی اکثریت استعفے نہیں دے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ دھرنے میں ان کی پوری مدد کروں گا کیونکہ میں اس کا ماہر ہوں لیکن میری مدد کے باوجود یہ ایک ہفتہ نہیں گزار سکیں گے۔

سینیٹ انتخابات پر انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن ہمارے اوپر ہے ہم ایک مہینہ پہلے بھی کر سکتے ہیں اور سپریم کورٹ میں آئین کی تشریح کے لیے جارہے کہ اوپن بیلٹ پر انتخابات کر سکتے ہیں یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں