عدالت کا ڈی جے بٹ کو رہا کرنے کا حکم

عدالت کا ڈی جے بٹ کو رہا کرنے کا حکم

لاہور کی مقامی عدالت نے پی ڈی ایم کے جلسے کے منتظم ڈی جے بٹ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے ڈی جے بٹ کی ضمانت 50 ہزار کے مچلکوں کے عوض منظورکی۔ اطلاعات کے مطابق میوزک سسٹم فراہم کرنے والے پر غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور کار سرکاری میں مداخلت کا مقدمہ بنایا گيا ہے۔

ڈی جے بٹ کو ان کے دفتر سے گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کو کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ لاہورکے تھانہ ماڈل ٹاؤن کی پولیس نے انہیں گرفتار کیا تھا۔

ڈی جے بٹ کی گرفتاری پر ن لیگ نے حکومت پر سخت تنقید بھی کی تھی۔ مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ حکومت کرسیاں لگانے والے کے ساتھ الجھ رہی ہے۔

ترجمان مسلم لیگ ن پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ عمران خان کا مقابلہ ٹینٹ سروس والوں اور ڈی جے بٹ سے ہے، ہمارے پاس ڈی جے بٹ کے علاوہ اور بھی بہت سے وینڈر ہیں۔

ن لیگ رہنماؤں پر بھی کورونا ایس اوپیز کی خلاف ورزی پر مقدمات درج کرائے گئے ہیں۔ ن لیگی رہنماؤں پر مقدمات مقامی پٹواریوں کی مدعیت میں درج کیے گئے ہیں۔

اپوزیشن کی جانب سے حکومتی اقدامات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے سبب ضلعی انتظامیہ نے پی ڈی ایم کو گریٹر اقبال پارک اور مینار پاکستان میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔

دوسری جانب لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں پانی چھوڑنے کے معاملہ پر پی ایچ اے انتظامیہ نے ن لیگ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معمول کے مطابق پارک میں لگی گھاس کو پانی دیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم قیادت کا کہنا ہے کہ حکومت کی تمام تر کارروائیوں کے باوجود لاہور میں مینار پاکستان کے مقام پر جلسہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں