حکومتی دھمکیوں کے باوجود لاہور میں جلسہ ہوگا: پی ڈی ایم رہنما

حکومتی دھمکیوں کے باوجود لاہور میں جلسہ ہوگا: پی ڈی ایم رہنما

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے اجازت نہ دینے کے باوجود بھی 13 دسمبر کو لاہور میں ہر قیمت پر جلسہ کرنے کا عزم دہرایا۔

لاہور میں جلسے کے حوالے سے پی ڈی ایم میں شامل پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما قمر زمان کائرہ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر رانا ثنااللہ اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما محمد سیف اللہ نے پریس کانفرنس کی۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ‘حکومت نے اپوزیشن کو جلسے سے روکنے کے لیے اپنے حربے تبدیل کردیے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ف ‘وزیراعظم کو معلوم نہیں ہے کہ یہ چیزین ریلی کو روک نہیں سکتیں، مارشل لا میں سخت اقدامات کیے جاتے ہیں لیکن ریلیاں اور تحریکیں رکتی نہیں ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اس حکومت کی کارکردگی سے تنگ آگئے ہیں اور ‘وقت آگیا ہے کہ انہیں گھر بھیج دیا جائے کیونکہ یہ حکومت فاشسٹ ہے’۔

پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ ‘سیاست میں لے دے ہوتی ہے لیکن اس حکومت اپنے دور میں کیچڑ اچھالنے کی روایت ڈالی ہے، جس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی’۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے حالات کا جائزہ لیا اور لاہور میں ہونے والے جلسے کے انتظامات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ ‘پی ڈی ایم کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ 13 دسمبر کا جلسہ ضرور ہوگا’۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہوں کا اجلاس کل ہوگا اور جلسے کا مقام کا دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘لاکھوں کی تعداد میں شہری لاہور کے جلسے میں شریک ہوں گے اور اس کے لیے مکمل انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ انتظامی معاملات پر بات کرنے کی ذمہ داری وزیراعظم کے بجائے ڈپٹی کمشنر لاہور کی تھی لیکن ‘عمران خان کہہ رہا ہے کہ وہ کرسی، لائٹس اور اسٹیج بنانے کی اجازت نہیں دیں گے اور اسی سانس میں انہوں نے کہا کہ وہ ہمیں ریلی کرنے سے نہیں روکیں گے’۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے نجی ٹی وی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن انہیں جلسے سے نہیں روکا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ اپوزیشن رہنماؤں اور کووڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جاری کیے گئے ایس اوپیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جلسے کے انتظامات کرنے والے تمام افراد کے خاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔

عمران خان نے کہا تھا کہ ‘ہم فیصلہ کیا ہے کہ اپوزیشن کو جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کرسیاں اور ساؤنڈ سسٹم فراہم کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوں گی’۔

دوسری جانب رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیں ملتان میں آزمایا لیکن ہم نے جلسہ کردکھایا اور ‘جب حکومت اس طرح کے حربے استعمال کرتی ہے تو لوگوں کی تعداد کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ ریلی کا انعقاد اہم ہوتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ملتان جلسے کے بعد حکومت اور اس کے نمائندوں کو سبکی کا سامناہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ ‘جلسہ ہر صورت ہوگا، صوبے اور ملک بھر سے لوگ لاہور میں جمع ہوں گے اور موجودہ حکومت سے اپنی بے زاری کا اظہار کریں گے اور 70 برسوں سے جاری کھیل کے خاتمے کا مطالبہ کریں گے، ووٹ کو عزت دی جائے گی’۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما محمد سیف اللہ نے کہا کہ ہماری جماعت کا شروع دن سے یہی مؤقف رہا ہے کہ حکومت عوام کی منتخبب کردہ نہیں ہے اور اس کو گھر جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’13 دسمبر کو پاکستان کے عوام حکومت کو دکھائیں گے کہ وہ حکمران کے طور پر مزید نہیں رہ سکتے اور انہیں مسترد کردیا گیا ہے’۔

وزیراعظم کی ‘دھمکیوں’ کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم کہنا چاہتے ہیں کہ جلسہ ہوگا اور مینار پاکستان میں ہوگا اور’اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے’۔

وزارت داخلہ کی جانب سے دسمبر کو صوبوں کا جاری خط کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے دھمکیاں دینے کے بجائے وزیراعظم کو ایس ایچ او کی وردی پہننی چاہیے۔

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری خط میں صوبوں کو سیاسی جماعتوں کے ‘اندر موجود ملیشیا کو فوری ختم کرنے کے لیے اقدامات کی ہدایت’ کی گئی ہے۔ اس موقع پر رانا ثنااللہ نے کہاکہ جلسے کا مقام کسی قیمت پر تبدیل نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی قیادت فیصلہ کرچکی ہے کہ 500 کارکنوں کو سیکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کی ذمہ داری سونپ دی جائے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر نے کہا کہ ‘اب اگر ہم انہیں کوئی مخصوص وردی یا ٹوپی دے دیں تو کیا وہ ملیشیا کہلائے گی؟، یہ مضحکہ خیز بات ہے اور حکومت کی بےچینی کی علامت ہے کیونکہ ہماری تحریک پرامن ہے’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں