سلیکٹڈ حکومت نے اے پی ایس کے بچوں کے قاتل احسان اللہ احسان کو این آر او دیا: بلاول بھٹو

پشاور میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا جلسہ جاری ہے جہاں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت کا دور ہے اور اے پی ایس کے بچوں کے قاتل احسان اللہ احسان دہشت گرد کو این آر او دیا گیا۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مضبوط گڑھ پشاور میں دلازک روڈ پر 11 اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم کے تحت جلسہ جاری ہے۔

خیال رہے کہ حکومت مخالف پی ڈی ایم کا یہ چوتھا سیاسی پاور شو ہے، اس سے قبل اپوزیشن اتحاد نے اپنے جلسوں کا باقاعدہ آغاز 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ سے کیا تھا، جس کے بعد 18 اکتوبر کو کراچی میں جلسہ کیا گیا تھا جبکہ 25 اکتوبر کو پی ڈی ایم نے کوئٹہ میں سیاسی طاقت دکھائی تھی۔

اگرچہ آج پی ڈی ایم کے چوتھے جلسے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پی ڈی ایم کو اجازت نہیں دی گئی تھی تاہم اس کے باوجود اپوزیشن اتحاد نے میدان سجایا۔

ادھر جلسہ گاہ کے اطراف میں موبائل سگنل کے مسائل کی بھی شکایات موصول ہوئیں جبکہ ٹولیوں کی شکل میں کارکنان کی جلسہ گاہ آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

احسان اللہ احسان دہشت گرد کو این آر او ملا ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے این آر او اے پی ایس کے قاتل کو ملا ہے، این آر او احسان اللہ احسان دہشت گرد کو ملا ہے، سلیکٹڈ نے ہمارے بچوں کے قاتل کو جیل سے نکال دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تو اب بھی اچھے دہشت گرد اور برے دہشت گرد، اچھے طالبان اور برے طالبان کھیل رہے ہیں لیکن ہم ان کو عوام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم دہشت گردوں اور اس کی سہولت کار حکومت کو بھی اجازت نہیں دیں گے کہ عوام کے خون کے ساتھ کھیلا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام، پولیس، فوج اور شہریوں نے قربانیاں دی ہیں اور ہم کٹھ پتلی کو اجازت نہیں دیں گے کہ دوبارہ دہشت گردی کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ فاٹا کے عوام کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ دہشت گردوں نے جو مکانات اور دکانات تباہ کیے ہیں اس کا معاوضہ دیا جائے لیکن افسوس کی بات ہے کہ فاٹا کے بجٹ میں کٹوتی کررہے ہیں اور شہدا کو معاوضہ نہیں دے رہے ہیں، یہ پی پی پی اور پی ڈی ایم کا وعدہ ہے کہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جو آئی ڈی پیز بے گھر ہوئے ان کی مدد نہیں کی گئی، آپریشن کے بعد عوام کے مسائل حل کرنے کا وقت آتاہے تو وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتا ہوں۔

مریم نواز نے شرکا سے مختصر خطاب کیا اور کہا کہ میں پشاور کے عوام سے بات کرنے آئی تھی لیکن میری دادی اور نواز شریف کی والدہ کا لندن میں انتقال ہوگیا ہے اور ان کے لیے دعا کریں۔

اس موقع پر نواز شریف کی والدہ کے لیے دعا کی گئی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا آج بھی لاپتہ افراد میں اضافہ ہو رہا اور لاپتہ افراد کے مرکز قائم ہیں، جس کے حوالے سے مرحوم جسٹس وقار سیٹھ نے کہا تھا اور عدالت کا بھی حکم تھا کہ وہ پولیس کے حوالے کریں لیکن افسوس کی بات ہے آج تک اس پر کوئی کام نہیں ہوا، ہم چیف جسٹس وقار سیٹھ کو سلام پیش کرتے ہیں، ملک میں ایسے بہادر جج بھی موجود ہیں جن کے قلم سے ایسے فیصلے بھی آتے ہیں اور ان میں ہمت ہے کہ آمر کے خلاف فیصلہ کرسکتےہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت کے دور میں تاریخی غربت اور تاریخی مہنگائی ہے، سلیکٹڈ حکومت کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں، ان کی وجہ سے پہلے چینی کا بحران آیا پھر آٹا کا بحران اور اب گیس کا بحران آنے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی سے خیبرپختونخوا کا حصہ نہیں دیا جا رہا ہے

بلاول بھٹو نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اتنا اضافہ ہوچکا ہے کہ پہلے جینا مشکل تھا اب جینا بھی مہنگا اور مرنا بھی مہنگا ہوچکا ہے، یہ عمران خان او ر اس کے سہولت کاروں کا نیا پاکستان ہے، یہ تو کرپشن کے زیادہ خلاف تھے اور زیاد چیختے تھے لیکن سب کو پتہ چل گیا ہے کہ یہ تو کرپٹ ترین حکومت نکلی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تو ٹرانسپرنسی بھی کہہ رہی ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے دور میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے، کرپشن تو حکومت کرتی ہے مگر نیب کے نشانے پر صرف اور صرف اپوزیشن ہوتی ہے، نیب کے سیاسی انتقام اور جھوٹے کیسز کو اپوزیشن بھگت رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کو نظر نہیں آتا ہے کہ پشاور میں ملک کی سب سے مہنگی میٹرو ہے، جس کی بسیں خود بخود جل جاتی ہیں اور مسافروں کو دھکا دے کر چلانا ہوتا ہے مگر نیب کو نظر نہیں آتا کہ کیسے سلائی مشین سے امریکا، نیویارک میں عمارتیں کھڑی ہو رہی ہے اور مالم جبہ میں کیا ہو رہا ہے۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ نیب کو نظر نہیں آتا کہ فارن فنڈنگ کیس میں کیسے غیر ملکی، بھارت کے وزیر، اسرائیل کے شہری پی ٹی آئی کو فنڈنگ کرتے رہے، نیب کو نظر نہیں آتا کہ معاون خصوصی کے پاناما، اسپین اور مریکا میں جائیدادیں کیسے آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب میں وہ ہمت نہیں ہے کہ وہ پوچھ سکیں پاپاجونز کا امپائر ایک معاون خصوصی نے پوری دنیا میں کاروبار کھڑا کردیا ہے مگر اب ان کے جانے کا وقت آگیا ہے اور جنوری تک مہمان ہیں، جنوری ان کا آخری مہینہ ہے اور پھر یہ چلے جائیں گے، اب ان سے حساب لینے کا وقت آیا تو عوام ان سے حساب لیں گے، ان کٹھ پتلیوں سے ضرور حساب لیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کٹھ پتلیوں کے پیچھے جو ہیں ان سے بھی اور نیب سے بھی ہم حساب لیں گے، نیب کے آئی اوز سے لے کر چیئرمین تک حساب لیں گے، نیب کے ہر افسر سے پوچھیں گے اور جب آئی اوز سے لے کر چیئرمین تک سب سے پوچھا جائے گا کہ آپ کے آمدن سے زائد اثاثے کیا ہیں تو پھر پورے ملک کو پتہ چلے گا کہ اصل میں کرپٹ کون ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس کرپشن کا ناسور اس وقت تک ختم نہیں کرسکتے جب تک ہم سب پاکستانیوں کے لیے ایک قانون نہیں ہوگا، جب سیاست دانوں، ججوں اور جرنیلوں کے لیے ایک قانون اور ایک عدالت نہیں ہوگی تب تک ہم کرپشن کا خاتمہ نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ہم گڈ کرپٹ اور بیڈ کرپٹ کھیلتے رہیں گے تب تک کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوسکتا، وقت آنے والا ہے کہ احتساب ہم لیں گے، جب احتساب ہم کریں گے حساب دینے کے لیے تم کہاں ہوں گے۔

پی ڈی ایم رہنماؤں کی بلور ہاؤس آمد

قبل ازیں ملک میں کورونا وائرس کی بڑھتی لہر اور انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ دینے کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) پشاور میں اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کررہی ہے اور اب مرکزی قیادت مولانا فضل الرحمٰن، بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز جلسہ گاہ پہنچ گئے ہیں۔

جلسہ گاہ پہنچنے سے قبل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن، بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز اور دیگر بلور ہاؤس پہنچے جہاں ان کے لیے ظہرانے کا انتظام کیا گیا۔

اس موقع پر چیئرمین پیپلزپارٹی اور نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے بلور خاندان سے ملاقات بھی کی۔

مہمانوں کے لیے ظہرانے پر مٹن تکہ، پشاوری چپلی کباب، چکن تکہ، قابلی پلاؤ اور میٹھے میں گاجر کا حلوہ پیش کیا گا جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کے لیے خصوصی طور پر سوجی کا حلوہ تیار کیا گی۔

ظہرانے کے بعد پی ڈی ایم رہنما جلسہ گاہ پہنچے۔

حکومت اور اپوزیشن کی ایک دوسرے پر تنقید

خیال رہے کہ ضلعی انتظامیہ نے شہر میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافے کے باعث جلسے کی اجازت نہیں دی تھی جبکہ وزیراعظم سمیت وفاقی وزرا کی جانب سے بھی اس موقع پر جلسے کرنے پر پی ڈی ایم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

تاہم اپوزیشن اتحاد میں شامل بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ پشاور جلسہ ہر صورت میں ہوگا اور اس کے لیے ہمیں حکومتی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اپوزیش کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے خبردار کیا تھا کہ اگر پشاور جلسے سے خیبرپختونخوا میں کووڈ 19 کے کیسز میں اضافہ ہوا تو اپوزیشن لیڈرز اور منتظمین کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کروائیں گے۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر میں اضافے کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے جلسے، جلوسوں پر پابندی لگادی تھی۔

عمران خان نے تحریک انصاف کے جلسوں کو معطل کرتے ہوئے کہا تھا کہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس پر عمل کریں۔

کورونا وائرس کی اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے اپوزیشن کو جلسے کی اجازت نہیں دی تھی اور ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) پشاور کے دفتر سے جاری خط میں کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور پشاور میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 13 فیصد سے زائد ہوگئی ہے جبکہ عوامی اجتماع کے باعث کورونا مزید پھیل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس لیے کورونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے باعث جلسے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

واضح رہے کہ اپوزیشن کے پشاور جلسے سے انکار نہ کرنے پر وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ’پی ڈی ایم کے وہ اراکین جو پہلے سخت ترین بندشیں چاہتے تھے اور مجھ پر طنز و تنقید کے نشتر چلایا کرتے تھے آج لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال کر نہایت نا عاقبت اندیش سیاست کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کیفیت یہ ہے کہ عدالتی احکامات ہوا میں اڑا کر کیسز میں نہایت تیز اضافے کے باوجود یہ جلسے پر مصر ہیں‘۔

دوسری جانب اپوزیشن نے حکومت کو کورونا سے زیادہ خطرناک قرار دے دیا تھا، پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت کووڈ 19 کے بہانے پشاور جلسے کو ناکام کرنے کی مایوس کن کوششیں کر رہی ہے لیکن خیبرپختونخوا کے لوگ ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔

پی ڈی ایم کیا ہے؟

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، 20 ستمبر کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد تشکیل پانے والا 11 سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جو رواں ماہ سے شروع ہونے والے ’ایکشن پلان‘ کے تحت 3 مرحلے پر حکومت مخالف تحریک چلانے کے ذریعے حکومت کا اقتدار ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔

ایکشن پلان کے تحت پی ڈی ایم نے رواں ماہ سے ملک گیر عوامی جلسوں، احتجاجی مظاہروں، دسمبر میں ریلیوں اور جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف ایک ’فیصلہ کن لانگ مارچ‘ کرنا ہے۔

مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے پہلے صدر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف سینئر نائب صدر ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی اس کے سیکریٹری جنرل ہیں۔

اپوزیشن کی 11 جماعتوں کے اس اتحاد میں بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں، تاہم جماعت اسلامی اس اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں