گلگت: قراقرام یونیورسٹی میں طالبہ کو ‘ہراساں’ کیے جانے کے خلاف احتجاج

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی (کے آئی یو) کے طلبہ نے اسکالرشپ افیئرز کے ایک ملازم کی جانب سے طالبہ کو مبینہ طور پر جنسی ہراساں کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔

تقریباً 300 طلبہ جس میں خواتین بھی شامل تھیں وہ وائس چانسلر کے دفتر کے باہر جمع ہوئیں اور انتظامیہ اور ان کے خلاف نعرے بازی کی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ طالبات کو ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

اس موقع پر مظاہرین سے خطاب میں ان کے رہنماؤں نے متاثر طالبہ کو انصاف کی فراہمی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔‎

اس احتجاج میں شریک گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے نومنتخب رکن عبید اللہ بیگ نے کہا کہ یونیورسٹی کے اسٹاف کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کرنا قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں وائس چانسلر سے پوچھوں گا کہ اتنے دن گزرنے کے باوجود اس معاملے کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیا‘۔

ادھر ایک طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ماضی میں ہراساں کیے جانے کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں جس میں اسکالرشپ افیئرز دفتر کے ملازمین ملوث تھے۔

انہوں نے کہا کہ طالبات کو اسکالرشپ حاصل کرنے کے لیے تعلقات قائم کرنے کا کہا گیا۔

دوسری جانب وائس چانسلر ڈاکٹر عطااللہ شیخ کو لکھی گئی درخواست میں متاثرہ طالبہ نے کہا کہ وہ صدمے کی حالت میں یہ خط لکھ رہی ہیں تاکہ آپ کو اس ہراسانی سے متعلق بتایا جائے جس کا سامنا انہیں17 نومبر کی صبح یونیورسٹی کے اسکالرشپ افیئرز آفس کے سعید نامی ملازم کے ہاتھوں کرنا پڑا۔

خط میں انہوں نے لکھا کہ ملازم نے انہیں چھیڑا اور چھوا، ساتھ ہی طالبہ نے لکھا کہ ’میں صدمے کی حالت میں ہوں اور وائس چانسلر سے اپنے لیے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کرتی ہوں‘۔

انہوں نے ملازم کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ کے آئی یو انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ غلط کام کرنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کرے کیونکہ مجھے کیمپس کی حدود میں ہراساں کیا گیا‘۔

علاوہ ازیں یونیورسٹی سے جاری ایک اعلامیہ میں کہا گیا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر عطااللہ شاہ نے طالبہ کی شکایت کا نوٹس کیا ہے اور اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے ایک 3 رکنی کمیٹی بنا دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں