سندھ حکومت کا اہم اقدام، پام آئل کی مقامی سطح پر پیداوار کا کامیاب تجربہ

سندھ حکومت نے ٹھٹہ کے علاقے میں پام کے درخت لگانے سے لے کر اس کے پھل سے تیل نکالنے کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ ہر سال تقریباً 3 سے 4 ارب ڈالر پاکستان پام آئل کی درآمدات پر خرچ کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ ماحولیات اور کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ٹھٹہ میں کاٹھور کے علاقے میں ایک جگہ کی نشاندہی کی کہ یہ جگہ پام آئل کی پلانٹیشن کے لیے سازگار ہے، حکومت سندھ نے 50 ایکڑ پر یہاں پام کی کاشت کی اور جو بیج سندھ حکومت نے بوئے تھے وہ درخت میں تبدیل ہوچکے ہیں اور پھل دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ یہ پھل بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے اور اسے آئل نکالنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سندھ حکومت نے فیصلہ کیا کہ اس پائلٹ پروجیکٹ کو آگے بڑھانے کے لیے ایک منی آئل مینوفیکچرنگ مل قائم کیا جائے، کورونا کے باوجود سندھ حکومت نے اس تیل بنانے والی مل کا افتتاح کردیا ہے اور پیر سے اس میں تیل بنانے کا کام شروع ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے میں جو لوگ اس کے کاروبار میں ملوث ہیں وہ اس میں دلچسپی لے رہے ہیں، جو تیل کے نمونے اکٹھا کیے گئے ہیں ان کی لیبارٹری ٹیسٹنگ بھی کی جاچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ایک بہت اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے جو پاکستان کے ساتھ ساتھ ٹھٹہ کی عوام کے لیے بھی گیم چینجر ثابت ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح تھر کی عوام کی زندگی میں تبدیلی آئی اسی طرح اب ٹھٹہ کی عوام کی زندگی بھی تبدیل ہوگی، سندھ حکومت نے ایسی چیز کو حاصل کیا ہے جس کے بارے میں ماضی میں کبھی کسی نے نہیں سوچا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ کابینہ نے کاٹھور کے علاقے میں 1600 ایکڑ زمین پام آئل کی پلانٹیشن کے لیے مختص کردی ہے۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ ‘یہ اس بات ثبوت ہے کہ کون کام کر رہا کون باتیں، جنہیں کام کرنا ہوتا ہے وہ تنقید کے باوجود اپنا کام جاری رکھتے ہیں’۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے تاہم اس کے باوجود سندھ حکومت جہاں جہاں مداخلت کرسکتی ہے کرتی ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمیں وفاق سے اس بارے میں کوئی تعاون نہیں ملتا، وفاقی حکومت کو سندھ سے سیکھنا چاہیے، پاکستان کی عوام وعدوں سے باہر نکلنا چاہتی ہے، وعدے کے بعد ایک اور وعدہ پھر ایک اور وعدہ کیا جاتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش مالی مشکلات کی سب سے بڑی وجہ وفاقی حکومت کی نا اہلی ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف بہتر نہیں ہوا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘جب حکومت وجود میں آئی تو ایف بی آر کی ٹیکس کلیکشن 39 کھرب روپے تھی، پہلا سال مکمل ہونے پر کل ٹیکس کلیکشن ہدف کے 550 کھرب کے برعکس 39 کھرب 20 ارب روپے تھی، یہ اپنی آمدنی میں اضافہ نہیں کرپاتے اس کا براہ راست اثر صوبوں پر پڑتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وفاقی وزرا جب میڈیا پر بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم 2 سال میں ملک میں تبدیلی لے آئے، 2 سال میں ہمارا کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا، ٹیکس کلیکشن نہ ہونا اسکینڈل نہیں، ادویات کا 2 بار اسکینڈل سامنے آیا، چینی اسکینڈل بھی سب کو معلوم ہے، اسے کس نے برآمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا’۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو معلوم تک نہیں ہوتا اور اس کی حکومت کے فیصلے ہوجاتے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ ‘وفاقی کابینہ میں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جن کے اپنے کاروباری مفادات ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پالیسیز بنائے جارہے ہیں جو ان کو تو فائدہ پہنچارہے ہیں مگر غریبوں کا استحصال کر رہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ان ہی وجوہات پر پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں اس ملک کی عوام دشمن پالیسیز اور جمہوریت دشمن پالیسیز کے خلاف سراپا احتجاج ہیں’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں