ہم نہیں چاہیں گے کہ بھارت پاکستان کے خلاف کسی پڑوسی ملک کی سرزمینِ کو استعمال کرے، شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم نہیں چاہیں گے کہ بھارت پاکستان کے خلاف کسی پڑوسی ملک کی سرزمینِ کو استعمال کرے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان امن عمل آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور دوحہ میں بھی بات چیت جاری ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے دورہ افغانستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال میں دورہ کابل کا مقصد اس پیغام کا اعادہ کرنا تھا کہ پاکستان افغان امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے اور افغانستان میں مستقل اور دیرپا امن کے خواب کو شرمندہ تعبیر دیکھنے کیلئے پرعزم ہے اور پاکستان اس ضمن میں اپنی پوری معاونت جاری رکھے گا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دورہ کابل کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینا بھی ہمارے پیش نظر تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دورے کے دوران افغانستان کے ساتھ دو طرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ کے سلسلے میں افغان قیادت کے ساتھ اہم نشستیں ہوئیں جن میں ہم نے ٹرانزٹ ٹریڈ، دو طرفہ تجارت اور علاقائی روابط کے فروغ کے ذریعے دو طرفہ کثیر الجہتی اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خارجہ نے کہنا تھا کہ اس موقع پر افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ بہت اچھی نشست ہوئی اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔

انہوں نے اپنے افغان ہم منصب محمد حنیف آتمر اور ان کی ٹیم کے ساتھ ملاقات کو اچھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے مستقبل کے راستے اور افغانستان اور پاکستان کے مابین دو طرفہ تعلقات کے شیئرڈ وژن پر اتفاق ہوا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ افغان قیادت اس دورے کی اہمیت کو سمجھتی ہے وہ وزیر اعظم عمران خان کی سوچ سے بخوبی واقف ہیں وہ وزیر اعظم کے دورہ کابل کے منتظر تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے افغان قیادت کو دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے جس پر انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں پاکستان آئیں گے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں