کورونا کے بعد دنیا کی معیشتوں کی نسبت ہماری معیشت زیادہ متحرک ہے: شبلی فراز

کورونا کے بعد دنیا کی معیشتوں کی نسبت ہماری معیشت زیادہ متحرک ہے: شبلی فراز

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد پاکستان کی معیشت دنیا کی دیگر معیشتوں زیادہ متحرک ہے اور اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئی ہے۔

اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ ہماری معیشت پاؤں پر کھڑی ہوگئی ہے، کورونا کے بعد دنیا کی معیشتوں کی نسبت ہماری معیشت زیادہ متحرک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف شعبوں میں معاشی سرگرمیاں بھی ہو رہی ہیں، جس میں تعمیرات سب سے زیادہ متحرک ہے، اس کے علاوہ سیمنٹ، سریا وغیرہ کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح معیشت کے دوسرے پہلووں میں بھی بہتری آئی ہے، نمو بھی مثبت ہے اور برآمد بڑھی ہیں، ٹیکسٹائل کے شعبے میں بھی بڑی تیزی آئی ہے یہاں تک نئے آرڈرز لینے کی گنجائش بھی نہیں ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے تھے کہ ان سرگرمیوں کو مزید سہولیات دینے کے لیے بجلی کی قیمتوں میں چھوٹ دی جائے، چھوٹی صنعتوں اور دیگر کاروبار کو اضافی بجلی پر یکم نومبر سے 25 فیصد رعایت دی گئی ہے، اسی طرح پیک اور اور آف پیک اور کے دونوں ٹیرف کو ایک کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آف پیک اور 7 سے 11 بجے کے علاوہ تھا جس میں تمام صنعتیں 7 بجے تک چلتی تھیں جبکہ پیک اوورز کے ریٹ زیادہ ہوتے تھے اب اس کو ختم کردیا گیا ہے اور کوئی پیک اوور اور سلیب نہیں ہوگا، اس طرح ان صنعتوں کو بھی موقع دیا گیا کہ جو تیسری شفٹ میں بھی کام کرنا چاہتی ہیں تاکہ انہیں آسانی ہو۔

انہوں نے کہا کہ بجلی میں رعایت سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کو بھی چھوٹ ملے گی، ان ساری چیزوں کا مقصد یہی ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے اور ملک میں خوش حالی ہوگی اور روزگار کے مواقع ملیں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت جو کچھ کرسکتی ہے وہ کر رہی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔

سیاسی حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس وقت پی ڈی ایم کے نام سے متحرک ہے اور ایک ایسے بیانیے کو لے کر چلی جو اس ملک کے اداروں اور ریاست کے مقام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، اس اپوزیشن کو یہ واضح ہوگیا کہ ان کے پاس کوئی پتہ نہیں، آخری پتہ ایف اے ٹی ایف پر کھیلا جس میں ناکام ہوئے اور انہیں معلوم ہے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے پاس کوئی پتہ نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی ماضی میں کارکردگی سے ملک کو نقصان پہنچا اور ہمارے بہترین دماغ بیرون ملک گئے اور وہاں پر خدمات انجام دیتے ہیں، اسی طرح ملک میں میرٹ کا نظام تباہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ایاز صادق کہہ رہے ہیں پوسٹرز لگ گئے ہیں لیکن پوسٹرز ہم نے نہیں لگائے، خود انہوں نے عوام کا غم و غصہ اپنے طرف راغب کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں