ساٹھ سالہ آرٹسٹ کا ایسا شہکار جو تنکوں میں بھی جان ڈالتا ہے

ساٹھ سالہ آرٹسٹ کا ایسا شہکار جو تنکوں میں بھی جان ڈالتا ہے

تنکے سے بےمثال فن پارے تخلیق کرنا کوئی ساٹھ سالہ آرٹسٹ عابد شاہ سے سیکھے۔ ساٹھ سالہ آرٹسٹ کی جو تنکوں میں ایسی جان ڈالتا ہے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔

عابد شاہ تنکوں کوپانی میں ڈبو کر تیز دھارآلے سے باریک کرتے ہیں اور ان تنکوں کو رنگ دیکر قرانی آیات، اسماءالحسنا اور مختلف مناظر کی ایسی عکس بندی کرتے ہیں کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔۔

 اس آرٹسٹ نے بتایا کہ’چالیس سال سے کام کرتا ہوں اس میں خطاطی بھی کرتا ہوں، کلموں کام بھی کرتا ہوں ِڈانسنگ تصویریں بھی بناتا ہوں اور سینری بھی بناتا ہوں‘۔

عابد شاہ کےمطابق دو سو سالہ اس فن کے چار ہی آرٹسٹ اس دنیا میں رہے ہیں۔ میںعرصہ دراز سے فن پارے تخلیق کرکے فٹ پاتھ پر رکھتے ہیں لیکن اُن کے فن کے قدردان نا ہونے کے برابر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے اللہ صرف روزی دیتا ہے اس سے اگے میں نہیں گیا ہوں۔ بس یہاں پر تو لوگ صرف واہ واہ کرتے ہیں بہت کم لوگ ہیں جو ہم سے فن پارے لیتے ہیں اس فن کا قدر باہر لوگوں کے پاس ہیں یہاں نہیں ہے۔

عابد شاہ صدیوں پرانے اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ نئی نسل سے انہیں ستائش تو ملتی ہے لیکن اس کو سیکھنے والے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں