قومی اسمبلی میں اولاد کی پیدائش پر والدہ کے ساتھ اب والد کوبھی چھٹی، بل منظور

قومی اسمبلی میں اولاد کی پیدائش پر والدہ کے ساتھ اب والد کوبھی چھٹی، بل منظور

اسلام آباد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون اور انصاف نے اولاد کی پیدائش پر والدہ کے ساتھ اب والد کو چھٹی دینے کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف سے منظور ہونے والے بل میں بچے کی پیدائش پر والدہ کو 6 ماہ اور والد کو ایک ماہ چھٹی دینے کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔

بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ دوسرے بچے کی پیدائش پر والدہ کو چار ماہ اور والد کو ایک ماہ کی چھٹی ہو گی، اسی طرح تیسرے بچے کی پیدائش پر والدہ کو تین اور والد کو ایک ماہ کی چھٹی دی جائے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شازیہ عطا مری نے لکھا کہ قانون کا اطلاق اسلام آباد کے سرکاری اور نجی اداروں پر ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ قانون صرف وفاقی دارالحکومت کے لیے نافذ العمل ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ سانگھڑ سے تعلق رکھنے والی رکن اسمبلی سینیٹر قرۃ العین مری نے قانون ایک سال پہلے تیار کیا۔

شازیہ عطا مری نے بل کی منظوری پر خوشی کا اظہار کیا اور بتایا کہ سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد اب یہ قائمہ کمیٹی نے بھی منظور کردیا۔

اس قانون کے تحت پاکستان کے دیگر صوبوں بلوچستان، خیبرپختونخوا، بلوچستان سے تعلق رکھنے والی خواتین کو 12 ہفتوں جبکہ سندھ سے تعلق رکھنے والی ماؤں کو 16 ہفتوں کی چھٹی دی جائے گی۔

میٹرنٹی بینیفٹ آرڈیننس کی شق نمبر چار کے مطابق سرکاری و نجی ادارے چھٹیوں کے دوران پوری تنخواہ ادا کریں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بچے کی پیدائش پر ملازمت پیشہ ماں کے لیے چھ ماہ اور باپ کے لیے تین ماہ کی چھٹی کا بل سینیٹ میں ایک سال قبل پیش کیا گیا تھا۔

بل پیش کرنے والی خاتون رکن سینیٹر قرۃ العین مری نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ زچہ اور بچہ کی دیکھ بھال شوہر کی ذمہ داری ہے اگر مردوں کو ایک ماہ کی چھٹی دی جائے تو میاں بیوی کے تعلقات اچھے اور گھرانے مضبوط ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں