جسٹس قاضی فائر عیسیٰ نے ذرائع آمدن اور اثاثوں کی تفصیلات پبلک کردیں

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائر عیسٰی نے اپنے ذرائع آمدن، اثاثوں اور ادا کردہ ٹیکسز کی تفصیلات پبلک کردیں

اثاثوں میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی گاڑیوں، بنک اکاونٹس اور ملازمین بھی تفصیلات شامل ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے جاری تفصیلات میں کہا ہے کہ کہ فیز ٹو ڈی ایچ اے کراچی میں 2 آٹھ سو گز کے پلاٹ بطور وکیل خریدے۔ چار کروڑ تیرا لاکھ تیس ہزار آٹھ سو چھپن روپے بنک اکاونٹس میں ہیں۔ سال 2018 میں آمدنی ایک کروڑ اکاون لاکھ تیرا ہزار نو سو بہتر روپے تھی.

جسٹس قاضی فائزعیسٰی نےجاری تفصیلات میں کہا ہے کہ سال 2018 میں بائیس لاکھ نو سو سولہ روپے ٹیکس ادا کیا۔ سال 2019 میں آمدنی ایک کروڑ انتالیس لاکھ نو سو بہتر روپے تھی ۔۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواب میں بتایا کہ سال دو ہزار بیس میں آمدن دو کروڑ بارہ لاکھ سینتیس ہزار نو سو اکیس روپے تھی.

خیال رہے کہ وویمن ایکشن فورم نے آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کی جائیدادوں کی تفصیلات مانگی تھیں۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کمشنر کی جانب سے جرمانے کے فیصلے کے خلاف کمشنر اسلام آباد کے آفس میں اپیل داخل کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق سرینہ عیسیٰ نے اپیل اپنے وکیل کے ذریعے کمشنراسلام آباد آفس میں داخل کرائی ہے۔ سرینہ عیسیٰ کی جانب سے لندن جائیدادوں پر ساڑھے 3 کروڑ جرمانے کے خلاف اپیل کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ جولائی میں سرینہ عیسیٰ نے ایف بی آر میں بیرون ملک جائیداد سے متعلق تفصیلات پیش کی تھیں۔ اپنے جواب میں انہوں نے کہا تھا برطانیہ میں خریدی گئی جائیداد سے ان کے شوہر کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ نے کراچی میں امریکن اسکول میں ملازمت کے دوران آمدن کا ریکارڈ بھی جمع کرایا تھا۔ اپنے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیرون ملک رقم قانونی طریقے سے بھیجی۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر کو کراچی میں فروخت کردہ املاک کی تفصیلات بھی جمع کرادی تھیں۔

سرینہ عیسیٰ نے کراچی کلفٹن میں خریدی گئی پراپرٹی اور اس پر جمع کرایا گیا ٹیکس ریکارڈ، والد کی جانب سے تحفے میں ملنے والی زرعی زمین اور ڈیرہ مراد جمالی اور نصیر آباد کی زرعی زمین کی تفصیلات بھی جمع کرادی تھیں۔

اپنے جواب میں اہلیہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے موقف اختیار کیا تھا کہ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک کے اکائونٹ سے تقریبا 7 لاکھ پائونڈ بھجوائے۔ برطانیہ میں خریدی گئی جائیداد سے ان شوہر کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
لندن کی جائیدادوں سے ملنے والے کرائے کی تفصیلات بھی ایف بی آر میں جمع کرائی تھیں۔ اہلیہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ بتایا تھا کہ مرکزی بنک کے پاس ان کی تمام بنک ٹرانزیکشن کی تفصیلات موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں