مضاربہ اسکینڈل میں شریک ملزم عبداللہ کو چار سال بعد نیب نے گرفتار کر لیا

مضاربہ اسکینڈل میں شریک ملزم عبداللہ کو چار سال بعد نیب نے گرفتار کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق نیب راولپنڈی نے ایک کارروائی میں عبداللہ نامی مضاربہ اسکینڈل کے شریک ملزم کو گرفتار کر لیا، نیب نے ملزم عبدللہ کے 2016 سے وارنٹ جاری کر رکھے تھے۔

چیئرمین نیب نے اشتہاریوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی تھیں، نیب کا کہنا ہے کہ شریک ملزم عبداللہ کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا ہے، جسے آج ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت پیش کیا جائے گا۔

نیب راولپنڈی کے مطابق ملزم عبداللہ مضاربہ کے نام پر اربوں روپے فراڈ کیس میں نامزد ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ رواں ماہ نیب راولپنڈی نے یہ چوتھا اشتہاری ملزم گرفتار کیا ہے۔

ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی نے ہدایت کی ہے کہ نیب کے تمام افسران کیسز کو میرٹ پر حل کریں، نیب نے کرپٹ عناصر اور بدعنوانی کے خاتمے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

عرفان منگی کا کہنا تھا کہ نیب کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، افسران میگا کیسز کو جلد منطقی انجام تک پہنچائیں۔

واضح رہے کہ ملزم نے شفیق الرحمان سے مل کر مضاربہ کے نام پر 7 ارب 20 کروڑ روپے کی کی جعل سازی کی تھی۔ کراچی سے یہ جعلی اسکیم 12 افراد پر مشتمل گروہ چلا رہا تھا، جس میں سیکڑوں لوگوں کو اسلام کے نام پر شرعی منافع کا جھانسا دے کر بے وقوف بنایا گیا۔

مذکورہ گروہ انویسٹمنٹ کے نام پر شہریوں سے اربوں روپے بٹور چکا ہے، یکم اپریل 2018 کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسلامی سرمایہ کاری کے نام پر عوام کو لوٹنے اور بدعنوانی میں ملوث 19 ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔

ستمبر 2018 میں مضاربہ اسکینڈل کے مرکزی کردار مفتی احسان الحق کو 10 سال قید اور 9 ارب روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی، 2014 میں ابھرنے والے اس کیس میں نیب کو 9,584 متاثرین نے شکایات جمع کرائی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں