رانا ثنا اللہ نے وفاقی وزیر شبلی فراز کا چیلنج قبول کرلیا

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنما رانا ثنا اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر قافلے روکے گئے تو پھر آپ لوگوں کو تشدد کی طرف لے جائیں گے۔ انہوں نے متنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی حرکت نہ کی جائے جس سے تشدد کا راستہ کھلے۔

ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقع کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔

پنجاب کے سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر اجازت نہ ملی تو جلسہ جی ٹی روڈ پرہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پر جب دباؤ پڑا تو اسے ہوش آیا۔

ن لیگ کے رکن قومی اسملبی رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہمارے لوگوں کو ساری رات بٹھا کراسٹیڈیم میں جلسےکی اجازت دی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اسٹیڈیم میں فول پروف سیکیورٹی فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بھی 500 سیکیورٹی گارڈ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں گے۔

انہوں نے وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا چیلنج قبول کرتے ہوئے استفسار کیا کہ وہ بتائیں کہ مستعفی کتنی دیر میں ہوں گے؟ انہوں ںے کہا کہ جلسہ حکومت کے خلاف ریفرنڈم ہوگا۔

رانا ثنااللہ نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے انتقامی کارروائیوں کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے انتقام اورنفرت کی فضا قائم کررکھی ہے۔ انہوں نے عوام الناس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے خلاف پی ڈی ایم کا ساتھ دیں۔

ن لیگ کے مرکزی رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ایک بھی مقدمہ درج نہیں ہوا ہے لیکن اب حکومت ایس اوپیز کو بنیاد بنا کر ہمارے کارکنان کو گرفتار کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو کورونا سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے۔
سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عوام کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔

لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے واضح طور پر کہا کہ موجودہ حکومت عوام کی نمائندہ نہیں ہے اور ہمارا مقصد ملک میں شفاف انتخابات کرانا ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں