ہم وزیراعظم عمران خان سے کہتے ہیں کہ گھبرانہ نہیں ہے: ناصر حسین

سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے، اب ہم لوگ وزیراعظم عمران خان سے کہتے ہیں کہ گھبرانہ نہیں ہے، آپ نے جانا ہے، گھبرائیں مت آپ چلے جائیں۔

سکھر پریس کلب میں میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ‘آپ ملک اور لوگوں کو مہنگائی میں دھکیل دیا’۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ‘تحریک انصاف کی حکومت کے وفاقی وزرا ہوں یا صوبائی تمام سفید جھوٹ بولتے ہیں’۔

انہوں نے وفاقی حکومت کا الزام دہرایا کہ ‘ملک میں آٹے کے بحران کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے’۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اگر سندھ میں آٹا مہنگا اور گندم نایاب ہو تو واقعی حکومت سندھ کی نااہلی ہے لیکن اگر پورے ملک بلوچستان، خیبرپختونخوا، پنجاب سمیت پورے ملک میں آٹا مہنگا ہے تو اس میں سندھ کا کیا قصور ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘اب جا کر ایک وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت نے گندم جاری کردی لیکن ان عقل کے ارسطو کو کیا کہیں کہ سندھ حکومت ہر سال اکتوبر میں گندم جاری کرتی ہے۔

ناصر حسین نے کہا کہ اسی وجہ سے ہمارا بیلنس رہتا ہے، ہمارے پاس اپنا ذخیرہ موجود ہے۔

صوبائی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کردیا جس کے مطابق ملک میں فضل کی کمی کی وجہ سے مذکورہ بحران پیدا ہوا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی حکومت فصل کی پیداوار پر غلط بیانی سے کام لے رہی ہے، اگر اعداد و شمار دیکھ لیں تو سارے جھوٹ بے نقاب ہوجائیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے احتجاج شروع کیا ہے۔

ناصر حسین نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئی لینڈ سندھ کے تھے، ہیں اور رہیں گے اس لیے حکومت آئی لینڈ کو اپنا حصہ بنانے کے لیے مظور کردہ آرڈیننس فوری طور پر واپس لے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ڈالر کی قیمت کہاں پہنچ گئی جبکہ ہمیں این آر او نہیں چاہیے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے اپنے دوستوں کو این آر او دے کر بیرون ملک روانہ کیا۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق فخر امام نے آٹے کے حالیہ بحران کی ذمہ داری ذخیرہ اندوزوں پر ڈال دی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ چینی اور آٹے کا حلیہ بحران چند ماہ پہلے شروع کیا۔

بعدازاں سینیٹر شبلی فراز نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت سندھ نے سیاسی بدنیتی کی وجہ سے گندم ریلیز نہیں کی جس کے باعث گندم اور آٹے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں