گوجرانوالہ میں جناح اسٹیڈیم کو بھر کے دکھائیں، وزیر اطلاعات کی اپوزیشن کو چیلینج

وزیراطلاعات شبلی فراز نے اپوزیشن کو چیلنج کیا ہے کہ گوجرانوالہ میں جناح اسٹیڈیم کو بھر کے دکھائیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے پی ڈی ایم کو جناح اسٹیڈیم گوجرانوالہ میں جلسے کی اجازت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت کا جمہوی حق ہے لیکن سڑک یا لوگوں کے گزرنے کی جگہ پر جلسے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

پی ڈی ایم کی قیادت سے کہا گیا ہے کہ وہ جلسے کے دوران ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

گوجرانوالہ کی ضلعی اانتظامیہ سے اجازت ملنے پر پی ڈی ایم نے جناح اسٹیڈیم میں تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ جناح اسٹیڈیم6 ایکڑ پر محیط ہے اور اس میں 35 ہزار افراد کی گنجائش ہے۔ اسٹیڈیم میں لائٹس اور ساؤنڈ سسٹم نصب کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب گوجرانوالہ بغیر اجازت کارنر میٹنگ اور کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 7 مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

مقدمات میں ٹینٹ سروس اور ساونڈ سسٹم لگانے والوں سمیت 100 سےزائد افراد نامزد ہیں۔ پولیس کے مقدمات ضلع کے مختلف تھانوں میں درج کئے گئے ہیں۔

سی پی او گوجروانوالہ سرفراز فلکی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ سے این او سی کے بغیر کارنرمیٹنگز اور عوامی اجتماع کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور قانون کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جائے گا۔

اپوزیشن کی جانب سے پہلا جسلہ16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ پہلا جلسہ پی ڈی ایم کی تحریک کے رخ کا تعین کرے گا۔

ن لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بینرز اتارنے اور پکڑ دھکڑ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ حکومت مخالف جلسے اور قافلے نہیں رکیں گے۔ پی ڈی ایم کے جلسے کو حکومت کیخلاف ریفرنڈم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق جلسہ سے قبل رائیونڈ انتظامیہ نےجاتی امرا روڈ کے گرد کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی ہے۔

ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ کی جا رہی ہے۔ نوشہرہ کے ٹرانسپورٹرز نے الزام لگایا ہے کہ ہماری گاڑیاں، ٹرک اور کنٹینرز پکڑے جا رہے ہیں۔

نوشہرہ سمیت خیبرپختونخوا کے سینکڑوں گاڑیاں بند کر دی گئی ہیں اور ڈرائیورز کو حوالات میں بند کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں