قائد حزب اختلاف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ

احتساب عدالت نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

احتساب عدالت لاہور میں منی لانڈرنگ ریفرنس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے زیر حراست ملزمان کو کمرہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا اور استفسار کیا کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف ابھی تک کیوں پیش نہیں ہوئے ؟

جس پر نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ کوشش ہوتی ہے جلدی لایا جائے مگر ملزم خود جلدی نہیں نکلتا۔

شہباز شریف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آپ کے گزشتہ نوٹس پر میرے کھانے کا معاملہ حل ہو گیا ہے لیکن مجھے کمر کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب وزیر اعظم عمران خان اور شہزاد اکبر کے کہنے پر کیا جا رہا ہے۔

میری کمر میں درد کی وجہ سے مجھے تھیراپی کروانے کی اجازت دی جائے۔ ایک شخص کو وہاں تکلیف دینا چاہتے ہیں جہاں اسے پہلے ہی تکلیف ہے۔

سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ شہباز شریف کو مکمل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

عدالت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں