مولانا عادل پر فائرنگ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش

انسپکٹر جنرل سندھ نے مولانا عادل پر فائرنگ کے واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کردی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مولانا عادل کا ایک ساتھی خریداری کیلئے گاڑی سے اترا اور اسی دوران موٹر سائیکل سوار ملزموں نے فائرنگ کر دی۔

نامعلوم دہشت گرد مولانا عادل پر دائیں جانب سے حملہ آور ہوئے۔ دہشت گردوں کے آتشی اسلحہ سے نکلنے والی پانچ گولیاں مولانا عادل کو لگیں۔

پانچ میں سے چار گولیاں مولانا عادل کے سر اور چہرے پر لگیں اور ایک بازو میں لگی۔ مولانا عادل کے سر اور چہرے پر لگنے والی گولیاں موت کا سبب بنیں۔

مولانا کے ڈرائیور مقصود کو صرف ایک گولی لگی۔ حملہ آوروں نے ڈرائیور کے سر پر وار کیا۔ مقصود احمد کے سر میں لگنے والی واحد گولی جان لیوا ثابت ہوئی۔

ترجمان لیاقت نیشنل اسپتال کے مطابق مولانا عادل خان اسپتال پہنچنے سے قبل ہی وہ دم توڑ چکے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے پانچ خول ملے ہیں۔

مولانا عادل کی گاڑی پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے جس میں حملہ آور کو گولیاں مارنے کے بعد پیدل سڑک پار کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک نے موٹر سائیکل سے اتر کر فائرنگ کی جسکے بعد تینوں حملہ آور موٹر سائیکل پر فرار ہوئے۔

گزشتہ روز کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی شمع شاپنگ سینٹر کے قریب فائرنگ سے مولانا عادل اور ان کے ڈرائیور مقصود جاں بحق ہوگئے تھے۔

پولیس کے مطابق مولاناعادل پرفائرنگ دارالعلوم کراچی سے واپسی پرہوئی۔ مولانا عادل کا ساتھی عمیر اس واقعہ میں محفوظ رہا اور وہ اسپتال میں ہے۔

کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد تین تھی جوایک ہی موٹر سائیکل پہ سوار تھے۔

مولانا ڈاکٹر عادل مولانا سلیم اللہ کے صاحبزادے تھے اور مولانا سلیم اللہ خان مرحوم وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سابق صدر تھے۔

ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے شیخ الحدیث مولانا عادل کی نماز جنازہ آج صبح نو بجے جامعہ فاروقیہ کراچی میں ادا کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں