خیبرپختونخوا کےضم اضلاع کی17 فیصد لڑکیوں کو آج بھی تعلیم کی سہولت میسر نہیں

خیبرپختونخوا کےضم اضلاع کی17 فیصد لڑکیوں کو تعلیم کی سہولت میسر نہیں ہے۔

خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع سے متعلق محکمہ بلدیات اور یو ایس ایڈ کی سروے رپورٹ کے مطابق 34ہائیرسیکنڈری، 281 ہائی، 249 مڈل اور 331 پرائمری ا سکولز کی کمی ہے جب کہ 149سول ڈسپنسریز اور 504صحت کے بنیادی مراکز کی بھی ضرورت ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق ‫قبائلی علاقوں کی15 فیصد آبادی سڑکوں اور 30 فیصد آبادی صاف پانی سے محروم ہے۔

ڈائریکٹر ایجوکیشن خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع میں اسکولوں کی کمی اور بنیادی سہولیات پر کام جاری ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ ضم شدہ اضلاع میں اسکولز بہت ہیں مگر وہاں سہولیات کی کمی ہے۔

خیال رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے گزشتہ مالی سال قبائلی اضلاع میں تعلیم کے فروغ کیلئے چھتیس ارب روپے مختص کئے تھے۔

ٹرائبل یوتھ فورم کے مطابق ضم اضلاع بشمول باجوڑ کے 24 ہزار تک میٹرک پاس طلبہ تعلیم سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں۔ شرح خواندگی بدستور24فیصد ہے جس میں خواتین کی شرح خواندگی صرف 7 فیصد ہے۔

تمام نئے اضلاع میں صرف 12 سیکنڈری سکول ہیں۔14لاکھ آبادی والے ضلع باجوڑ میں صرف ایک سیکنڈری سکول اور تین کالجز ہیں۔

ضلع باجوڑ میں لڑکیوں کے واحد ڈگری کالج میں سینکڑوں طالبات داخلے سے محروم رہ جاتی ہیں اور غریب والدین اپنے بچوں کو ضلع سے باہر نہیں بھیج سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں